صورت مت بھولنا پیا ہماری
صورت مت بھولنا پیا ہماری
تمری ہی اک آس ہے ہم تمرے واری
پی نگری کی پہلی منزل سکھیاں چھوڑیں ساتھ
اس گھونگھٹ کی لاج ہے اب تو پیا تمہارے ہاتھ
رسی چھوٹی ہاتھ سے مورے اور نیا منجدھار
تم جو بیاں چھوڑ دو پیارے کون لگاوے پار
جگ نے چھوڑا رات بتانے گھر سے دیو نکاس
تم راجہ کے چرن پڑوں میں اب تمری ہے آس
گھر گھر جھانکا در در مانگا سب گئے آنکھ بچائے
اک تم سنگ نہ چھوڑیو کہ کوئی ہمارو نائے
کھیل کود میں عمر گنوائی سو کاٹے دن رین
جب پی گھر سے آئی پلکیا ٹپ ٹپ ٹپکت نین
سیس پہ گٹھڑی ڈگر کٹیلی گھائل مورے پاؤں
پیارے تم ہی سنبھالیو جب ڈگمگ میں ہو جاؤں
تم کچھ کرپا کرو تو سالکؔ برا بھلا بن جائے
کھوٹا کھرا نہ دیکھے پارس کندن سبھی بنائے
تیل جو نبڑے بتی پچرے دیا میرا بڑھ جائے
سانچے سورج جوت تمہاری سالکؔ پہ پڑ جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.