ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا
ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا
ادھر زندگی ان کی دلہن بنے گی
قیامت سے پہلے قیامت ہے یا رب
میرے سامنے میری دنیا لٹے گی
جوانی پہ میری ستم ڈھانے والوں
ذرا سوچ لے کیا کہے گا زمانہ
اِدھر میرے ارمان کفن پہن لیں گے
اُدھر ان کے ہاتھوں پہ مہندی لگے گی
ازل سے محبت کی دشمن ہے دنیا
کبھی دو دلوں کو ملنے نا دے گی
اِدھر میرے دل پر خنجر چلے گا
اُدھر ان کے ماتھے پہ بندیا سجے گی
وہ پردے کے پیچھے میں پردے کے آگے
نا وہ آئیں آگے نا میں جاؤں پیچھے
وہ آگے بڑھیں گے تو کچھ بھی نا ہوگا
میں پیچھے ہٹوں گا تو دنیا ہنسے گی
ابھی ان کے ہنسنے کے دن ہیں وہ ہنس لیں
ابھی میرے رونے کے دن ہیں میں رو لوں
مگر ان کو اس روز رونا پڑے گا
کہ جس روز تابشؔ کی میت اٹھے گی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.