Font by Mehr Nastaliq Web

ہم نے دیکھیں ہزار کی آنکھیں

مولانا عبدالقدیر صدیقی

ہم نے دیکھیں ہزار کی آنکھیں

مولانا عبدالقدیر صدیقی

MORE BYمولانا عبدالقدیر صدیقی

    ہم نے دیکھیں ہزار کی آنکھیں

    پر کہاں اس نگار کی آنکھیں

    لال ڈورے ہیں بند پائے نظر

    صید کرتی ہیں یار کی آنکھیں

    جانتے ہو کہ کہہ رہی کیا ہیں

    عاشق بے قرار کی آنکھیں

    کب یہ راحت سے بیٹھنے دیں گی

    کہیں چھپتی ہیں پیار کی آنکھیں

    ان پپوٹوں میں یا مرے دل میں

    کس میں رہتی ہیں یار کی آنکھیں

    کیا کیا اس نے خود نہیں واقف

    ایک عالم شکار کی آنکھیں

    کرتی ہیں راز دل کی غمازی

    عاشق پردہ دار کی آنکھیں

    بعد مردن بھی تھیں کھلی کی کھلی

    ہائے وہ انتظار کی آنکھیں

    بے پلائے کے مست کرتی ہیں

    ساقیٔ پر خمار کی آنکھیں

    نہ بھلائی گئیں بھلانے سے

    حسرتؔ جاں سپار کی آنکھیں

    مأخذ :
    • کتاب : سرودِ روحانی (Pg. 191)
    • اشاعت : Second

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے