Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

تو کو بتاؤں کیسے سکھی رے مرشد کی انوکھی بتیاں

عبدالہادی کاوش

تو کو بتاؤں کیسے سکھی رے مرشد کی انوکھی بتیاں

عبدالہادی کاوش

تو کو بتاؤں کیسے سکھی رے مرشد کی انوکھی بتیاں

ڈالے ڈاکہ لوٹے تن من گھائل کرے نین سے چھتیاں

من بھی چرایو تن بھی چرایو لوٹ لیو مورا دین و دھرم بھی

اب میں جانت ناہوں حرم کو مرشد پیا کے پڑوں ہوں پیاں

جاکو کوئی پکڑے تو کیسے کام کرت ہے نظر نہ آئے

چپکے چپکے سیندھ لگاوے دن ہووے یا اندھیری رتیاں

تو کو بتاؤں سن رے سکھی رے مرشد پیا کی صورت کس کی

یہی ہے صورت شیر خدا کی بانکی چتون کاری انکھیاں

مرشد پیا کو جو نہ میں دیکھوں چین نہ آئے پل بھر موکو

دیکھ کے جا کا سندر مکھڑا بھائے نہ موہے کسی کی بتیاں

من مندر میں جو ہیں براجے ان داتا ہے جو ہی خدا ہے

جب میں کہت ہوں یہ سکھیوں سے موکو پاگل کہت ہیں سکھیاں

اب ابھیلاشا کوئی نہ آشا مرشد کی کاوشؔ میں دوانی

سورگ مبارک پنڈت جی کو موکو پیاری پیا کی گلیاں

مأخذ :

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے