بے وفا یوں تیرا مسکرانا
بھول جانے کے قابل نہیں ہے
میں نے جو زخم کھایا ہے دل پر
وہ دکھانے کے قابل نہیں ہے
ترچھی ترچھی نظر کے میں قرباں
تیری آنکھیں ہیں یا مے کے پیالے
جس کو تو نے نظر سے پلایا
ہوش پھر اس کو آیا نہیں ہے
میں نے خط لکھ کے ان کو بلایا
آ کے قاصد نے دکھڑا سنایا
ان کے پاؤں میں مہندی لگی ہے
آنے جانے کے قابل نہیں ہے
جب سے دیکھا ہے جلوہ تمہارا
کوئی آنکھوں میں جچتا نہیں ہے
لاکھ دیکھے جہاں حسن والے
کوئی عالم میں تجھ سا نہیں ہے
آئے ہو آ کے جانے لگے ہو
یہ بھی کیا دل لگی دل لگی ہے
میری نظریں ابھی تک ہیں پیاسی
میں نے جی بھر کے دیکھا نہیں ہے
میں نے پوچھا کہ کل شب کہاں تھے
پہلے شرمائے پھر جل کے بولے
آپ وہ بات کیوں پوچھتے ہیں
جو بتانے کے قابل نہیں ہے
تیر و تلوار تم مت اٹھاؤ
کیوں یہ کرتے ہو بے کار زحمت
جانتے ہیں تمہاری کلائی
بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہے
شیشہ پتھر سے ٹکرا کے ٹوٹا
ٹوٹنے کی صدا سب نے سن لی
دل کسی کا اگر ٹوٹ جائے
کوئی آواز سنتا نہیں ہے
عاشقی کا تقاضہ یہی ہے
ہم نہ بدلیں نہ تم ہم سے بدلو
تم تو ایسے بدلنے لگے ہو
آج تک کوئی بدلا نہیں ہے
میں نے پوچھا کہ پھر کب ملو گے
پہلے شرمائے پھر ہنس کے بولے
تم تو دل میں سمائے ہوئے ہو
ملنے کی ضرورت نہیں ہے
سوچ لو دل لگانے سے پہلے
لوگ کر دیں گے بدنام تجھ کو
پیار کو چاہے جتنا چھپاؤ
یہ چھپانے سے چھپتا نہیں ہے
میں جب بھی کی عرض تمنا
زلف کی طرح بل کھا کے بولے
ایسے عاشق کو سولی چڑھا دو
رحم کھانے کے قابل نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.