تیری نظر جو اٹھی زلفِ کیف سلجھانے
تیری نظر جو اٹھی زلفِ کیف سلجھانے
برس پڑے سرِ محفل ہزار میخانے
طہور و خور کی اس کو فقط تمنا ہے
فقیہِ شہر عبادت کی روح کیا جانے
عجب نہیں کہ بالآخر قبول ہو جائیں
ترے حضور مرے آنسوؤں کے نذرانے
نہ مدرسہ میں تفقہ نہ خانقاہ میں سوز
عذر کہ صوفی و ملا ہیں دیں سے بیگانے
کبھی جو سوئے حرم دیکھنے نہیں دیتے
کسی کی آنکھ کے ڈوروں میں ہیں وہ بت خانے
کشاکشِ خس و دریا ہے دیدنی کوثرؔ
الجھ رہے ہیں زمانے سے چند دیوانے
- کتاب : زرِ گل (Pg. 163)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.