Font by Mehr Nastaliq Web

احد میں احمد کا ہے یہ نقشہ کہ یار مجھ میں میں یار میں ہوں

نا معلوم

احد میں احمد کا ہے یہ نقشہ کہ یار مجھ میں میں یار میں ہوں

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    احد میں احمد کا ہے یہ نقشہ کہ یار مجھ میں میں یار میں ہوں

    نہیں یہاں نام بھی دوئی کا کہ یار مجھ میں میں یار میں ہوں

    عجب طرح کا ہے کچھ تماشا کہ یار مجھ میں میں یار میں ہوں

    یہ ڈھنگ عالم سے ہے نرالا کہ یار مجھ میں میں یار میں ہوں

    جو وہ ہے معشوق میں ہوں عاشق جو میں ہوں مخلوق سے وہ خالق

    مگر میں ملزوم لازم کجا کہ یار مجھ میں میں یار میں ہوں

    تمام عالم میں اس کو ڈھونڈھا کہیں مگر کچھ پتہ نہ پایا

    جو چشم وحدت سے میں نے دیکھا کہ یار مجھ میں میں یار میں ہوں

    وہ ہے گل تر تو میں ہوں خوشبو میں آئینہ تو وہ آئینہ رو

    نہ میں جدا وہ نہ مجھ سے بچھڑا کہ یار مجھ میں میں یار میں ہوں

    نہ فصل کی کچھ جگہ ہے اصلا نہ وصل کہنے کا کچھ ہے موقع

    کہاں کا میل اور فرق کیسا کہ یار مجھ میں میں یار میں ہوں

    اگر ہوں میں آب تو وہ گل ہے اگر ہوں میں جاں تو وہ دل ہے

    ہوئے ہیں پر دونوں مل کر یکجا کہ یار مجھ میں میں یار میں ہوں

    یہ باتیں محفوظؔ وہ ہی سمجھے نگاہ مرشد کی جس پہ ہووے

    ہر ایک کیا جانے یہ معما کہ یار مجھ میں میں یار میں ہوں

    مأخذ :
    • کتاب : Majmua-e-Qawwali, Part 4 (Pg. 18)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے