Font by Mehr Nastaliq Web

پردہ سے عیاں رخ کے جب جلوہ گری ہو گی

نا معلوم

پردہ سے عیاں رخ کے جب جلوہ گری ہو گی

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    پردہ سے عیاں رخ کے جب جلوہ گری ہو گی

    موسیٰ کی طرف ہم کو بس بے خبری ہو گی

    ہو جائے اگر عاشق وہ صورت زیبائی

    قاصد سے بھلا کیوں کر پھر نامہ بری ہو گی

    قاصد یہ کم ہے کیا کوچۂ جاناں کا

    دس بیس کھڑے ہوں گے جس جادہ پری ہو گی

    کوئی بھی نہیں ہو گا ہمراہ مرے مرقد میں

    ہو گی مری تنہائی اور بے خبر ہو گی

    جل جاتا ہے جو اگتا ہے سبزۂ خوابیدہ

    شوکت ترے مرقد پر کیا خاک پڑی ہو گی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے