پردہ سے عیاں رخ کے جب جلوہ گری ہوگی
پردہ سے عیاں رخ کے جب جلوہ گری ہوگی
موسیٰ کی طرح ہم کو بس بے خبری ہوگی
ہو جائے اگر عاشق وہ صورت زیبائی
قاصد سے بھلا کیوں کر پھر نامہ بری ہوگی
قاصد یہ کم ہے کیا کوچۂ جاناں کا
دس بیس کھڑے ہوں گے جس جا وہ پری ہوگی
کوئی بھی نہیں ہو گا ہمراہ مرے مرقد میں
ہوگی مری تنہائی اور بے خبری ہوگی
جل جاتا ہے جو اگتا ہے سبزۂ خوابیدہ
شوکت ترے مرقد پر کیا خاک پڑی ہوگی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.