ہمارے دل کو ستم کا اپنے نشانہ اے جاں بنا چکے ہو
ہمارے دل کو ستم کا اپنے نشانہ اے جاں بنا چکے ہو
یہ پوچھو جو کچھ ہے دل پہ گذرا غضب کے صدمہ سہا چکے ہو
چلے جو پہلو سے اٹھ کے میرے تو دیکھو پھر ہے وہ شب کو آتا
یہی کلیجے کو تھام کر تم جگر میں میرے بٹھا چکے ہو
تمہاری نظروں کا تیر کھا کر کلیجے میں دل تڑپ رہا ہے
اے حور ناوک فگن یہ ہم کو کرشمہ اپنا دکھا چکے ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.