Font by Mehr Nastaliq Web

ہمارے دل کو ستم کا اپنے نشانہ اے جاں بنا چکے ہو

نا معلوم

ہمارے دل کو ستم کا اپنے نشانہ اے جاں بنا چکے ہو

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    ہمارے دل کو ستم کا اپنے نشانہ اے جاں بنا چکے ہو

    یہ پوچھو جو کچھ ہے دل پہ گذرا غضب کے صدمہ سہا چکے ہو

    چلے جو پہلو سے اٹھ کے میرے تو دیکھو پھر ہے وہ شب کو آتا

    یہی کلیجے کو تھام کر تم جگر میں میرے بٹھا چکے ہو

    تمہاری نظروں کا تیر کھا کر کلیجے میں دل تڑپ رہا ہے

    اے حور ناوک فگن یہ ہم کو کرشمہ اپنا دکھا چکے ہو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے