Font by Mehr Nastaliq Web

لبھاتا ہے نہایت دل کو خط رخسارِ جاناں کا

نا معلوم

لبھاتا ہے نہایت دل کو خط رخسارِ جاناں کا

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    لبھاتا ہے نہایت دل کو خط رخسارِ جاناں کا

    گھسیٹے گا مجھے کانٹوں میں سبزہ اس گلستاں کا

    رواں رکھتا ہے خون آنکھوں سے ہجر اک ماہِ تاباں کا

    شفق آلودہ رہتا ہے ہلال اپنے گریباں کا

    حسینوں کو دیا دل جسے اپنی جاں پر کھیلا

    روا رکھتے ہیں خون یہ لوگ تقصیر انساں کا

    خط نو رسن نے دلوائے لب جاں بخش کے بوسے

    دکھایا خفر نے آتش کو چشمہ آب حیواں کا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے