لبھاتا ہے نہایت دل کو خط رخسار جاناں کا
لبھاتا ہے نہایت دل کو خط رخسار جاناں کا
گھسیٹے گا مجھے کانٹوں میں سبزہ اس گلستاں کا
رواں رکھتا ہے خون آنکھوں سے ہجر اک ماہ تاباں کا
شفق آلودہ رہتا ہے ہلال اپنے گریباں کا
حسینوں کو دیا دل جس نے اپنی جاں پر کھیلا
روا رکھتے ہیں خو یہ لوگ بے تقصیر انساں کا
خط نو رس نے دلوائے لب جاں بخش کے بوسے
دکھایا خضر نے آتش کو چشمہ آب حیواں کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.