عاصی ہوں بخش دینے کو اس نے کہا تو ہے
عاصی ہوں بخش دینے کو اس نے کہا تو ہے
جنت مجھے ملے نہ ملے آسرا تو ہے
شاید قبول ہوے یہ پچھلے پہر کی بات
دل نے تڑپ تڑپ کے کچھ ان سے کہا تو ہے
مقبول وہ کرے نہ کرے میری بندگی
ان کو بٹھا کے سامنے سجدہ کیا تو ہے
جنت تو ہاتھ سے گئی مانا مگر شکیلؔ
خلد نگاہ شوق در مصطفیٰ تو ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.