ان کی آنکھوں سے مستی برستی رہے ہوش اڑتے رہیں دور چلتا رہے
ان کی آنکھوں سے مستی برستی رہے ہوش اڑتے رہیں دور چلتا رہے
رقص توبہ کرے جام دل اور مہ رند پیتے رہیں شیخ جلتا رہے
عشق میں زندگی کا مزہ ہے یہی عاشق زار پہلو بدلتا رہے
یوں ہی گھڑیاں شب غم کی کٹتی رہیں یاد آتے رہو دل بہلتا رہے
زندگی ہے ہماری تمہارا کرم تم رہو مہرباں تو نہیں کوئی غم
ہم سے بدلو نہ تم تم سے بدلیں نہ ہم روز چاہے زمانہ بدلتا رہے
تم مرے سامنے آؤ تو اس طرح تیرا پردہ رہے مجھ کو دیدار ہو
آپ بن ٹھن کے چلمن میں بیٹھا کریں حسن چھن چھن کے باہر نکلتا رہے
بعد مدت کے اٹھی ہے کالی گھٹا مے کشوں کو پلا اور پیہم پلا
مے کدہ تیرا ساقی سلامت رہے آج تو جام پر جام چلتا رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.