ہو کے روپوش نہ دل توڑ تمنائی کا
حوصلہ پست نہ کر اپنے تو شیدائی کا
نت نئے روپ میں تجھے دیکھا جس جا دیکھا
کیا ٹھکانہ ہے رخِ یار کی زیبائی کا
کبھی مسجد کبھی مندر کبھی دل میں مقیم
کیا پتہ پائے کوئی اس بتِ ہرجائی کا
ہم بھی باندھیں گے تیرے عشق میں احرامِ جنوں
ہم بھی دیکھیں گے تماشہ تیری لیلائی کا
رات کٹتی نہیں اے چاند یہ ان سے کہنا
دن گزرتا ہے تڑپ کر تیرے سودائی کا
جیتے جی سر نہ اٹھے یار کے در سے بیدمؔ
یہ مزہ ہے اسی چوکھٹ پہ جبیں سائی کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.