Font by Mehr Nastaliq Web

میں شرابی شرابی میں شرابی شرابی

نا معلوم

میں شرابی شرابی میں شرابی شرابی

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    دلچسپ معلومات

    "میں شرابی شرابی" کے عنوان سے مشہور قوالی عزیز میاں نے پیش کی ہے، اس قوالی میں مختلف اشعار اور گرہیں شامل ہیں، جن میں متعدد شعرا کا کلام بھی درج ہے۔

    اگر میکدے سے تو اک بار گزرے تو

    زاہد وہاں اپنا کعبہ بنا لے

    پجاری اگر تیری صورت کو دیکھے

    تو چن چن کے اک اک صنم توڑ ڈالے

    تیری صورت تیری صورت

    میں شرابی شرابی میں شرابی شرابی

    تاج و تخت و حکومت نہیں چاہتا

    دین و دنیا کی ثروت نہیں چاہتا

    میرے ساقی میں دولت نہیں مانگتا

    بلکہ ساقی تو مرا اک کام کر مے خانہ میرے نام کر

    میں شرابی شرابی میں شرابی شرابی

    رنگ میں آج مجھے ہوش ربا دے ساقی

    خون کا بھر کے کٹورا مجھے لا دے ساقی

    میں پیوں تم بھی پیو دونوں شرابی ہو جائیں

    میں پلاؤں تجھے تو مجھ کو پلا دے ساقی

    میں پیوں تم بھی پیو دونوں شرابی ہو جائیں

    میں پلاؤں تجھے تو مجھ کو پلا دے ساقی

    ہو مجھے پنجتن پاک کی الفت کا خمار

    پانچ پیالے مجھے گن گن کے پلا دے ساقی

    گر کوئی فعل کروں پی کے شریعت کے خلاف

    پھر تو بے شک مجھے سولی پہ چڑھا دے ساقی

    مدعا دل میں جو ہے وہی زباں سے نکلے

    جو لڑکھڑا کے گروں منہ سے یا علی نکلے

    میں شرابی شرابی میں شرابی شرابی

    اے اللہ تیری رحمت کی قسم تیری محبت کی قسم

    تیری عظمت کی قسم تیری شفاعت کی قسم

    اور بڑی قسم حبیب خدا کی قسم

    شب ہجراں کی قسم کاکل پیچاں کی قسم

    مست آنکھوں کی قسم جلوۂ جاناں کی قسم

    حسن یوسف کی قسم عشق زلیخا کی قسم

    ید بیضا کی قسم اور دم عیسی کی قسم

    ہیت موسیٰ کی قسم بازوئے حیدر کی قسم

    حلق اصغر کی قسم چادر زینب کی قسم

    میں شرابی شرابی میں شرابی شرابی

    منصور نے جو سولی پہ خود کو چڑھا کے پی

    یز نے بھی کھال پر اپنی کھنچا کے پی

    سرمد جو تھے تو مستی میں سر کو کٹا کے پی

    یوسف نے اپنے حسن کا جلوہ دکھا کے پی

    ایوب نے بھی صبر کی حد کو مٹا کے پی

    موسیٰ نے کوہ طور کو سرمہ بنا کے پی

    عیسیٰ نے قم باذنی سے مردے جلا کے پی

    اکبر نے اپنی ساری جوانی لٹا کے پی

    اصغر نے سوکھے حلق پہ بس تیر کھا کے پی

    قاسم نے اپنے سہرے کی لڑیاں کٹا کے پی

    عباس نے تو دریا پہ شانے کٹا کے پی

    شبیر نے نماز میں سر کو جھکا کے پی

    میں شرابی شرابی میں شرابی

    مأخذ :
    • کتاب : Pakistani Qawwalian (Pg. 4)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے