تضمینی کلام - مرحبا کیا فکر گوہر بار ہے
دلچسپ معلومات
تضمین بر غزل حضرت شاہ اکبر داناپوری۔
مرحبا کیا فکر گوہر بار ہے
ہے غزل یا تختۂ گلزار ہے
جس کا مطلع مطلع انوار ہے
آنکھ وہ ہے جس میں روئے یار ہے
دل وہی ہے جس میں وہ دلدار ہے
جستجوئے یار میں پھرتا رہا
کعبۂ و بت خانہ میں ڈھونڈا کیا
اپنی آنکھوں پر نظر کی تو کھلا
جھانکتا ہے اس میں وہ بیٹھا ہوا
مری آنکھوں میں مرا دلدار ہے
مجھ سے سن اے ہم نشیں اے رازدار
اے دل پُر درد اے سینہ فگار
عاشق ناشاد بن اے ہونہار
عشق ہے دریائے ناپید اکنار
اس میں جو ڈوبا وہی اس پار ہے
اہلِ ہند اہلِ عجم اہلِ عرب
ہیں اسی کی جستجو میں جاں بلب
ہے مگر یہ اک تماشائے عجب
ڈھونڈھتے ہیں جس کو یہ اہلِ طلب
وہ تو ہم سب کے گلے کا ہار ہے
دکھ اٹھائے سختیاں جھیلا کرے
جو ستم چاہے کرے دیکھا کرے
ہاں کہے تو دست بستہ یوں کہے
مار ڈالے یا مجھے زندہ رکھے
میں ہوں راضی جو رضائے یار ہے
شمس ایک ذرہ ہے جس کے سامنے
بدر شرمندہ ہے جس کے سامنے
حور کو سکتہ ہے جس کے سامنے
رنگ گل پھیکا ہے جس کے سامنے
اتنا رنگین یار کا رخسار ہے
تو ہوا اے جان جب ہم سے جدا
ہوگیا عیش و طرب ہم سے جدا
کیوں نہ ہو آرام اب ہم سے جدا
ہوگئے غم خوار سب ہم سے جدا
بے کسی ہی ان دنوں غم خوار ہے
صورت منصور جو مرتے نہیں
جز ترے دم غیر کا بھرتے نہیں
وہ بلاؤں سے حذر کرتے نہیں
اہل حق ایذاؤں سے ڈرتے نہیں
آئینہ اوج محبت وار ہے
کیا کہوں کیوں کر اچٹ جاتی ہے نیند
کس طرح فرقت میں تڑپاتی ہے نیند
ہجر کے ماروں کو کب بھاتی ہے نیند
کون سوتا ہے کسے آتی ہے نیند
جو ترا مہجور ہے بیدار ہے
تو نظر بازوں سے شرماتا نہیں
چاہنے والوں کو تڑپاتا نہیں
کچھ سمجھ میں بھید یہ آتا نہیں
طالب دیدار سے پردہ نہیں
کیوں صحابِ رخ نقاب آیا ہے
جو ہوا ہے بادۂ الفت سے مست
فی الحقیقت ہے وہ عارف حق پرست
حشر میں بھی ہوگا وہ ساغر بدست
نام ہے اس رند کا مست الست
جو شراب عشق کا سرشار ہے
کون کہتا ہے اسے بیکار وسست
فی الحقیقت ہے وہی چالاک و چست
شیخ کا ارشاد ہے بالکل درست
درد دل جس کو ہے وہ ہے تندرست
یہ مرض جس کو نہیں بیمار ہے
عشق کا دعویٰ تو کرتے ہیں سبھی
پر حقیقت سے نہیں واقف کوئی
تو بھی سن لے اے وفائے محسنی
سب کو ہے معلوم لفظ عاشقی
اس کا مطلب وہ بہت دشوار ہے
ناخدا دن کے خدائے ذوالجلال
عرض کرتا ہے وفائےؔ خستہ حال
بحر غم کے جوش سے ہے دل نڈھال
یا خدا اکبر کی کشتی کو نکال
تو ہی اس بیٹرے کا کھیون ہار ہے
- کتاب : Najat-e-Wafa (Pg. 07)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.