تضمینی کلام - شعاعِ نورِ شمع رہ گزر ہے
دلچسپ معلومات
تضمین بر غزل حضرت شاہ محسن داناپوری۔
شعاعِ نورِ شمع رہ گزر ہے
تجسس بے نیاز سنگِ در ہے
جہانِ معرفت زیر و زبر ہے
جمالِ یار ہر سو جلوہ گر ہے
جدھر دیکھا وہی پیش نظر ہے
صدف میں تابشِ آب گہر ہے
چمن میں رونقِ رنگِ سحر ہے
فلک پر زینتِ شمس و قمر ہے
کبھی آنکھوں میں وہ نورِ نظر ہے
کبھی دیکھا تو دل میں جلوہ گر ہے
ہر اک نقشہ تماشائے نظر ہے
ہر اک جلوہ پر اندازِ دگر ہے
بتاؤں کیا مجھے اتنی خبر ہے
اگر چہ خاک کا پتلا بشر ہے
اسی میں نورِ خالق جلوہ گر ہے
عجب جلوہ گری ہے انجمن میں
نشاطِ زندگی ہے انجمن میں
مکمل چاندنی ہے انجمن میں
اسی کی روشنی ہے انجمن میں
اسی کا نور دل میں جلوہ گر ہے
زباں سے حال دل کیوں کر بیاں ہو
خدا را تم مری صورت کو دیکھو
مری صورت سے دل کا حال سمجھو
گزرتی ہے جو دل پر کچھ نہ پوچھو
خلش ہے ٹیس ہے درد جگر ہے
تمہاری یاد سے بڑھتا گیا جوش
تمہارے ذکر سے آتا گیا ہوش
بتاؤ کس لیے ہو ہم سے روپوش
تمہاری یاد میں ہیں خود فراموش
تمہیں بھی عاشقوں کی کچھ خبر ہے
ہماری جاں شہِ لولاک محسن
ہماری روح غوث پاک محسن
قیامت سے ہمیں کیا باک محسن
ہماری خاک ہے وہ خاک محسنؔ
علی کا نور جس میں جلوہ گر ہے
- کتاب : Yadgar-e-Mohsin (Pg. 03)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.