یہ کیا راز ہے ساقیٔ مست و بیخود یہ کیوں تو نے نظر عنایت ہٹا لی
یہ کیا راز ہے ساقیٔ مست و بیخود یہ کیوں تو نے نظر عنایت ہٹا لی
صہبا اکبرآبادی
MORE BYصہبا اکبرآبادی
یہ کیا راز ہے ساقیٔ مست و بیخود یہ کیوں تو نے نظر عنایت ہٹا لی
وہی مے کدہ ہے مگر سونا سونا وہی جام و مینا مگر خالی خالی
نظر بہکی بہکی قدم ڈگمگائے وہ فتنے جگاتے چلے آر ہے ہیں
سلامت رہے ان کی محشر خرامی مبارک ہو اے دل تجھے پائمالی
او بندہ نواز و گدا پرور آقا نہ محتاج اپنے سوا رکھ کسی کا
مری جھولی خالی ہے اب بھر دے داتا ترے در سے خالی نہ جائے سوالی
- کتاب : سرودِ روحانی (Pg. 318)
- اشاعت : Second
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.