Font by Mehr Nastaliq Web

اتر پردیش کے شاعر اور ادیب

کل: 1209

ترقی پسند فکر کے ممتاز شاعر تھے، سماجی ناانصافی، طبقاتی استحصال اور محنت کش طبقے کے مسائل ان کی شاعری کا مرکزی موضوع رہے، جبکہ سنجیدہ اور طنزیہ دونوں اسالیب میں انہوں نے اپنی منفرد شناخت قائم کی۔

کثرت سے نوحہ و سلام کہنے والے

سلسلہ وارثیہ سے عقیدت رکھنے والا شاعر

درگاہ حضرت نظام الدین کی روحانی فضا میں پروان چڑھنے والی صوفیانہ شخصیت۔

معروف عالم دین اور کامیاب شاعر تھے، وہ امام احمد رضا بریلوی کے چھوٹے بھائی تھے۔ ان کی شہرت کا ایک سبب ان کا لکھا ہوا نعتیہ کلام کا گلدستہ "ذوق نعت" بھی ہے۔

گورنمنٹ رضا پوسٹ گریجویٹ کالج، رام پور کے شعبۂ اردود کے صدر

مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور

اردو کے ممتاز شاعر اور ادیب، مولانا یعقوب ضیاؤالقادری کے شاگرد تھے، "میزانِ حشر" ان کا معروف شعری مجموعہ جبکہ "ٹوٹے ہوئے دل" ان کی نمایاں نثری تصنیف ہے۔

ماہنامہ ادیب، الہ آباد کے مدیر اعلیٰ

جید عالم، زاہد صوفی اور عربی، فارسی و اردو کے قادرالکلام شاعر تھے۔

اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور ماہرِ معاشیات تھے، شریف اثرؔ کے فرزند، اقوامِ متحدہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اور "چراغاں"، "خیاباں" اور نعتیہ مجموعہ "خلقِ مجسم" ان کی نمایاں ادبی یادگاریں ہیں۔

بدایوں کے قادرالکلام اور زود گو شاعر

شاہ برکت اللہ مارہروی کے نبیرہ، خانقاہ برکاتیہ کے سجاہ نشیں، بلند پایہ عالم، طبیب اور "کاشف الاسرار" و "فیض الکلمات" جیسی علمی و تصوف پر مبنی تصانیف ان کی یادگار ہیں۔

احمد رضا خاں کے بڑے صاحبزادے

نعتیہ ادب کو خلوص، وارفتگی اور فنی پختگی عطا کرنے والے شاعر۔

ایک قادرالکلام شاعر، ماہرِ عروض و قافیہ اور صاحبِ علم ادیب تھے، جنہوں نے ادبی صحافت اور فارسی قواعد کی تدریس کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

بدایوں کی نعتیہ روایت کے ایک متقی اور صاحبِ سوز شاعر۔

اردو کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، ابتدا میں غزل کہتے تھے مگر سفرِ حجاز کے بعد نعت گوئی کو اپنا مستقل میدان بنایا، گیارہ مرتبہ حج کی سعادت حاصل کی، جس کے باعث ’’زائرِ حرم‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئے، ان کے نعتیہ مجموعوں میں گلبانگِ حرم، بستانِ حرم اور الاسماء المنظومہ لنبی الرحمۃ نمایاں ہیں۔

زہد، عبادت اور فطری شاعرانہ سوز کے نمائندہ صاحبِ دل شاعر۔

مرادآباد کے معروف حکیم اور صاحبِ اسلوب شاعر تھے، پیشۂ طب کے ساتھ شعر و ادب سے بھی گہری وابستگی رکھتے تھے اور اپنی قادرالکلامی، پختہ مشقی اور ادبی صلاحیت کے باعث اہلِ قلم میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔

’’نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم‘‘ کے لئے مشہور

اپنے عہد کے جلیل القدر صوفی بزرگ، صاحبِ کرامات اور صاحبِ قلم شاعر تھے، آپ کے کلام میں حمد، نعت، منقبت اور قصائد شامل ہیں جبکہ تقریباً نصف صدی تک رشد و ہدایت اور روحانی تربیت کے فرائض انجام دیتے رہے۔

سید محمد شاہ کے مرید

سلسلۂ وارثیہ کے بانی، وسیع المشرب صوفی بزرگ اور دیویٰ شریف کے روحانی پیشوا تھے۔

بولیے