Font by Mehr Nastaliq Web

اتر پردیش کے شاعر اور ادیب

کل: 1038

کثرت سے نوحہ و سلام کہنے والے

سلسلہ وارثیہ سے عقیدت رکھنے والا شاعر

درگاہ حضرت نظام الدین کی روحانی فضا میں پروان چڑھنے والی صوفیانہ شخصیت۔

معروف عالم دین اور کامیاب شاعر تھے، وہ امام احمد رضا بریلوی کے چھوٹے بھائی تھے۔ ان کی شہرت کا ایک سبب ان کا لکھا ہوا نعتیہ کلام کا گلدستہ "ذوق نعت" بھی ہے۔

گورنمنٹ رضا پوسٹ گریجویٹ کالج، رام پور کے شعبۂ اردود کے صدر

مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور

ماہنامہ ادیب، الہ آباد کے مدیر اعلیٰ

جید عالم، زاہد صوفی اور عربی، فارسی و اردو کے قادرالکلام شاعر تھے۔

بدایوں کے قادرالکلام اور زود گو شاعر

شاہ برکت اللہ مارہروی کے نبیرہ اور خانقاہ برکاتیہ کے سجاہ نشیں

احمد رضا خاں کے بڑے صاحبزادے

نعتیہ ادب کو خلوص، وارفتگی اور فنی پختگی عطا کرنے والے شاعر۔

ایک قادرالکلام شاعر، ماہرِ عروض و قافیہ اور صاحبِ علم ادیب تھے، جنہوں نے ادبی صحافت اور فارسی قواعد کی تدریس کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

بدایوں کی نعتیہ روایت کے ایک متقی اور صاحبِ سوز شاعر۔

زہد، عبادت اور فطری شاعرانہ سوز کے نمائندہ صاحبِ دل شاعر۔

’’نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم‘‘ کے لئے مشہور

سید محمد شاہ کے مرید

سلسلۂ وارثیہ کے بانی، وسیع المشرب صوفی بزرگ اور دیویٰ شریف کے روحانی پیشوا تھے۔

مشہور صوفی اور نامور عالم دین

رامپور کے ایک متقی فارسی شاعر تھے جنہوں نے جوانی ہی میں اپنا دیوان مرتب کر لیا تھا۔

شاہ اکبر داناپوری کے مرید و خلیفہ

حاجی وارث علی شاہ کے مرید اور شہر گیا کے نامور وکیل اور رئیس

داغ دہلوی کے بھانجہ اور شاہ عبدالمقتدر بدایونی کے مرید

بولیے