Font by Mehr Nastaliq Web

اتر پردیش کے شاعر اور ادیب

کل: 1209

ممتاز شاعر، ادیب، مترجم، نقاد اور روحانی شخصیت تھے۔

اردو و فارسی کے شاعر اور ماہرِ تعلیم تھے، لکھنؤ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور وہیں طویل عرصہ تدریسی خدمات انجام دیں۔

اردو کے ممتاز شاعر، ماہرِ تعلیم اور بچوں کے ادب کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں، آپ نے سادہ اور مؤثر شاعری کے ذریعے بچوں کی اخلاقی و تعلیمی تربیت کی، جبکہ "تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا" جیسی نظمیں بے حد مقبول ہوئیں، تعلیمِ نسواں کے فروغ اور اردو زبان کی خدمت میں بھی آپ کی نمایاں خدمات ہیں۔

مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ میں شعبۂ فلسفہ کے لکچرار

درگاہ حضرت مزاق میاں، بدایوں کے سجادہ نشیں

بریلی کے صوفی منش شاعر، طبیب اور خانقاہ سجادیہ، شیش گڑھ کے سجادہ نشیں تھے، انہوں نے جامعہ نعیمیہ، مرادآباد سے دینی علوم اور طب کی تعلیم حاصل کی، ان کی شاعری میں صوفیانہ فکر نمایاں ہے، جبکہ جذبۂ دل، زخمِ جگر اور فانوسِ خیال ان کے معروف شعری مجموعے ہیں۔

دبستانِ کراچی کے ممتاز غزل گو شاعر تھے، ان کی شاعری زبان کی سلاست، سادگی اور سہلِ ممتنع کی عمدہ مثال ہے، غزل کے علاوہ نعت، منقبت اور سلام نگاری میں بھی انہوں نے نمایاں خدمات انجام دیں، خصوصاً امام حسین کے حضور ان کے سلام عقیدت و محبت کے جذبات سے بھرپور ہیں۔

اعظم گڑھ کے ممتاز شاعر، وکیل، سیاست دان اور ماہرِ تقریر تھے، انہوں نے مولانا حمیدالدین فراہی، حسرت موہانی اور شبلی نعمانی جیسے اکابر سے علمی استفادہ کیا، 1937ء میں اتر پردیش اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور قومی یکجہتی کے حامی رہے، ان کی شاعری میں قومی شعور، فکری گہرائی اور کلاسیکی لطافت نمایاں ہے۔

ممتاز غزل گو اور نعت گو شاعر تھے، آپ نے افقر موہانی، اثر لکھنوی اور جگر مرادآبادی سے اصلاحِ سخن حاصل کی، قیامِ پاکستان کے بعد لاہور اور کراچی میں ملازمت کی، شاخِ گل، رنگ و نور اور رحمت لقب آپ کا شعری مجموعہ ہے، اپنی غزل "دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں" کے لیے مشہور۔

ممتاز شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم تھے، وہ ڈھاکہ اور چٹاگانگ کالج میں شعبۂ اردو کے صدر رہے اور اردو زبان و ادب کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا، ان کے معروف شعری مجموعوں میں سات ستارے، چراغِ آخرِ شب، محاصل اور فاصلوں کو تکلف شامل ہیں۔

مغل بادشاہ محمد شاہ کے عہد کا ایک اکبرآبادی شاعر

صاحب دیوان شاعر

حیدرآباد کے معروف صوفی شاعر

دبستان لکھنؤ کے ممتاز شاعر

آپ غزل، نعت اور منقبت کے ممتاز شاعر تھے، فلسفہ، نجوم، خطاطی اور موسیقی سے بھی دلچسپی رکھتے تھے۔

حضرت بڑے حافظ صاحب کے مرید اور اسیر لکھنوی کے شاگرد رشید

قلندرانہ مزاج اور نعتیہ شاعری کے منفرد آہنگ کے حامل شاعر۔

بہرائچ کے ممتاز شاعر، محقق اور کثیرالتصنیف ادیب تھے، نشور واحدی کے شاگرد تھے اور "کاروانِ فکر"، "آبروئے دو جہاں" اور "نامورانِ بہرائچ" جیسی اہم تصانیف ان کی علمی و ادبی خدمات کی نمائندہ ہیں۔

مولانا احمد رضا خاں بریلوی کے نبیرہ، مفسرِ اعظمِ ہند کے خطاب سے مشہور

ریاستِ ٹونک کے ممتاز صوفی شاعر تھے، "خورشیدِ روحی" ان کی معروف شعری یادگار ہے اور نعتیہ شاعری میں انہیں نمایاں مقام حاصل ہے۔

اردو اور فارسی کا عظیم شاعر

بولیے