Font by Mehr Nastaliq Web

بھارت کے شاعر اور ادیب

کل: 2663

مولانا عبدالقدیر صدیقی حسرتؔ کے صاحبزادے

راز نعمانی کے شاگرد اور بزم احبابِ ادب سے وابستہ

معروف افسانہ نگار اور ناول نویس، ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کے تناظر میں کہانیاں اور ناول لکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

ٹھمریاں کہنے والا ایک حیدرآبادی شاعر

ٹھمریاں کہنے والا ایک حیدرآبادی شاعر

ترقی پسند فکر کے ممتاز شاعر تھے، سماجی ناانصافی، طبقاتی استحصال اور محنت کش طبقے کے مسائل ان کی شاعری کا مرکزی موضوع رہے، جبکہ سنجیدہ اور طنزیہ دونوں اسالیب میں انہوں نے اپنی منفرد شناخت قائم کی۔

مدھیہ پردیش کے ممتاز شاعر اور بقا غازی پوری کے شاگرد تھے، "بستانِ حاذق" ان کی معروف ادبی یادگار ہے۔

معاصر اردو کے ممتاز شاعر، ادیب، معلم اور فیضان اکیڈمی کے بانی ہیں، "اشعاعِ آیاتِ قرآنیہ"، "نغمۂ سروش" اور "سبز پیڑوں کے سائے" آپ کی نمایاں تصانیف ہیں۔

کثرت سے نوحہ و سلام کہنے والے

سلسلہ وارثیہ سے عقیدت رکھنے والا شاعر

درگاہ حضرت نظام الدین کی روحانی فضا میں پروان چڑھنے والی صوفیانہ شخصیت۔

عظیم آباد کے محقق

معروف عالم دین اور کامیاب شاعر تھے، وہ امام احمد رضا بریلوی کے چھوٹے بھائی تھے۔ ان کی شہرت کا ایک سبب ان کا لکھا ہوا نعتیہ کلام کا گلدستہ "ذوق نعت" بھی ہے۔

حسن جان

1855 - 1916

خانقاہ حسنیہ ابوالعلائیہ، شہسرام کے بانی

حاجی وارث علی شاہ کے مرید اورعرش گیاوی کے شاگرد

ترقی اردو، چاٹگام کے صدر

گورنمنٹ رضا پوسٹ گریجویٹ کالج، رام پور کے شعبۂ اردود کے صدر

حسرتی

1806 - 1869

مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور

اردو کے ممتاز شاعر اور بالی ووڈ کے شہرۂ آفاق نغمہ نگار تھے، راج کپور کی فلموں کے لیے لکھے گئے "بہاروں پھول برساؤ"، "زندگی ایک سفر ہے سہانا" اور "احسان تیرا ہوگا مجھ پر" جیسے لازوال گیت ان کی ادبی و فنی عظمت کے شاہد ہیں۔

عظیم آباد کے جلیل القدر عالم، صوفی، شاعر اور شمس العلما تھے جنہوں نے علم، ادب اور تصوف کی بے مثال خدمات انجام دیں۔

اردو کے ممتاز شاعر اور ادیب، مولانا یعقوب ضیاؤالقادری کے شاگرد تھے، "میزانِ حشر" ان کا معروف شعری مجموعہ جبکہ "ٹوٹے ہوئے دل" ان کی نمایاں نثری تصنیف ہے۔

ہاشم شاہ

1735 - 1843

پنجابی کے ممتاز صوفی شاعر اور داستان گو تھے، جنہوں نے "قصہ سسی پنوں"، "قصہ سوہنی مہینوال" اور "قصہ شیریں فرہاد" جیسی لازوال عشقیہ داستانوں کے ذریعے پنجابی ادب کو نئی بلندی عطا کی۔

ماہنامہ ادیب، الہ آباد کے مدیر اعلیٰ

جید عالم، زاہد صوفی اور عربی، فارسی و اردو کے قادرالکلام شاعر تھے۔

اردو کے ممتاز غزل گو شاعر، طنز و مزاح نگار اور حفیظ جالندھری کے شاگرد تھے، "کفر و ایمان" ان کے کلام کا معروف مجموعہ ہے جو ان کے انتقال کے بعد شائع ہوا۔

شہر رانچی کے زندہ دار بزرگ

بولیے