Sufinama

انیس الارواح یعنی ملفوظات خواجہ عثمان ہارونی

خواجہ معین الدین چِشتی

انیس الارواح یعنی ملفوظات خواجہ عثمان ہارونی

خواجہ معین الدین چِشتی

MORE BY خواجہ معین الدین چِشتی

    انیس الارواح

    یعنی ملفوظات

    خواجہ عثمان ہارونی

    کی پانچ منتخب مجالس کا اردو ترجمہ

    مجلس (7)

    مومن کو تکلیف دینے کے بارے میں گفتگو ہوئی تو آپ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ ابو ہریرہؓ نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ جس شخص نے مومن کو ستایا سمجھو کہ اس نے مجھ کو ناراض کیا اور جس نے مجھے ناراض کیا اس نے خدا وند تعالیٰ کو ناراض کیا۔ ہر مومن کے سینے میں اسّی پردے ہوتے ہیں اور ہر پردہ پر فرشتہ کھڑا ہوتاہے جو شخص کسی مومن کو ستاتاہے وہ ایسا ہی ہے جیسا کہ اس نے اسّی فرشتوں کو ناراض کیا۔

    پھر نماز کے بارے میں گفتگو ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ یہ نماز فریضہ نماز کے بعد ادا کی جاتی ہے اور ہمارے مشائخ نے اس نماز کو ادا کیاہے۔ پس جو شخص ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعت نماز ادا کرے اور جو کچھ قرآن سے جانتاہوپڑھے تو خدا وند تعالیٰ اسے بہشت کی خوشخبری دیتاہے اور اس کےلئے اس وقت ستّر ہزار فرشتے ہدئے لے کر آتے ہیں اور اس نماز کے ادا کرنے والے کے سر پر قربان کرتے ہیں اور جب قبر سے اٹھتاہےتو ستّر پوشاکیں پہناکر بہشت میں لے جاتے ہیں اور جو شخص اس نماز کو ظہر کی نماز کے بعد ادا کرے،اس میں قرآن مقرر نہیں تو خدا وند تعالیٰ ہر رکعت کے بدلے اس کی ہزار حاجتیں رواکرتاہےاور ہزار نیکی اس کے لئے لکھی جاتی ہے اور ایک سال کی عبادت کا ثواب اسے ملتاہے۔ کتاب مجیب میں مشائخ طبقات لکھتے ہیں کہ دانا آدمی اس وقت تک نماز نہیں پڑھتا جب تک نماز میں پوری حضوری حاصل نہ ہو چنانچہ میں نے اپنے پیر خواجہ حاجی رحمۃ اللہ علیہ کے رسالے میں لکھا ہوا دیکھاہےکہ خواجہ یوسف چشتی رحمۃ اللہ علیہ چاہتے کہ نماز کو شروع کریں تو ہزار دفعہ تکبیر کہہ کر بیٹھ جاتے۔ جب مکمل حضوری حاصل ہوجاتی تب نماز شروع کرتے اور جب اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نسْتَعِیْنُ (ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں)پر پہنچتے تو دیر تک ٹھہرے رہتے۔ الغرض ان سے جب اس کا سبب پوچھا گیاتو آپ نے فرمایا کہ جس وقت مکمل حضوری حاصل ہوتی ہے پھر نماز شروع کرتاہوں کیونکہ جس نماز میں مشاہدہ نہ ہو اس میں کیا نعمت ہوسکتی ہے۔

    پھر فرمایا کہ ایک دفعہ خواجہ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اور خواجہ شبلی رحمۃ اللہ علیہ بغداد سے باہر نکلے اور نماز کا وقت قریب آن پہنچا۔ دونوں بزرگ تازہ وضو کرنے میں مشغول ہوئے اور وضو کرنے کے بعد نماز ادا کرنے لگے۔ اتنے میں ایک شخص لکڑیوں کا گٹھّا سر پر اٹھائے جارہاتھا۔ جب اس نے ان کو دیکھا تو فوراًایندھن کا گٹھّا نیچے رکھ کر وضو میں مشغول ہوا۔ ان بزرگوں نے عقل سے معلوم کرلیا کہ یہ مرد خدا رسیدوں میں سے ہے۔ سب نے اس کو امام مقرر کیا۔ جب نماز شروع کی تو رکوع اور سجود میں دیر تک رہا۔ نماز سے فارغ ہوکر اس سے اس کا سبب پوچھا تو اس نے کہا کہ دیر اس وجہ سے کرتاتھا کہ جب تک ایک تسبیح پڑھ کر لَبَّیکَ عَبْدِیْ (اے میرے بندے!میں حاضر ہوں) نہ سن لیتا دوسری تسبیح نہ کرتا*

    پھر فرمایا کہ ایک دفعہ میں خانہ کعبہ معظمہ کی طرف مجاوروں کے درمیان کچھ عرصہ گوشہ نشیں رہا۔ ان بزرگوں میں ایک بزرگ تھا جسے خواجہ عمر تسفی کہتے تھے۔ ایک دن وہ بزرگ امامت کررہے تھے۔ فوراًحالت عجیب ہوگئی۔ سر مراقبہ میں لے گئے۔ کچھ دیر کے بعد جب سر اٹھایا تو آسمان کی طرف دیکھنے لگےاور اہل مجلس کو فرمایا کہ کہ سراوپر اٹھاؤ اور دیکھو*

    جونہی یہ فرمایا میں نے دیکھا۔ پھر فرمایا کہ کیا کہتے ہیں اور کیا دیکھتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں نے دیکھاکہ پہلےآسمان کے فرشتے رحمت کے تھال ہاتھ میں لے کر کھڑے ہیں اور ہونٹوں میں کچھ کہہ رہے ہیں۔انہوں نے فرمایا جانتے ہو یہ کیا کہتے ہیں۔؟ میں نے کہا یہ کہتے ہیں کہ شیخ صاحب کی بندگی ہماری بندگی کی نسبت بہتر معلوم ہوتی ہے۔

    جونہی میں نے یہ کہا اس نے سر اٹھایا اور مناجات کی کہ اے خداوند! جو کچھ تیرے بندے سنتے ہیں اہل مجلس بھی اسے سنیں۔ فوراًغیبی فرشتے نے آواز دی۔ اے عزیز و!یہ فرشتے جو لبوں کو ہلارہے ہیں یہ کہتے ہیں کہ اے خداوند!خواجہ تفسی کے مجاہدہ اور علم کی عزت کے صدقے میں ہمیں بخش۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ نعمت ہر مرتبے میں حاصل ہے لیکن مرد وہ ہے کہ اس میں کوشش کرے تاکہ اس مرتبے پر پہنچ جائے۔

    پھر فرمایا، اے درویش! بغداد میں ایک بزرگ تھا جو صاحبِ کشف و کرامات تھا۔ اس کو لوگوں نے پوچھا کہ آپ نماز کیوں نہیں ادا کرتے۔ فرمایا کہ اس میں تمہیں کچھ دخل نہیں لیکن جب تک دوست کا چہرہ نہیں دیکھ لیتا میں نہیں بیٹھتا۔

    پھر فرمایا یہی سبب ہے کہ جو بعض مشائخ فرماتے ہیں کہ علم علم ہے جس کو عالم جانتے ہیں اور زہد زہد ہے جو کو زاہد جانتے ہیں اور یہ بھید ہے جس کو اہلِ معنیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔

    پھر فرمایا کہ جو شخص عصر کی نماز سے پہلے چار رکعت نماز ادا کرے، ابو درداء نے فرمایا ہے کہ اس کو ہر رکعت کے بدلے بہشت میں ایک محل ملتاہے اور وہ ایسا ہے کہ گویا اس نے ساری عمر خداوند تعالیٰ کی عبادت میں بسر کی ہے۔ جو شخص مغرب اور عشاء کے درمیان چار رکعت نماز ادا کرے وہ بہشت میں جاتاہے اور مصیبتوں سے امن میں ہوتاہےاور ہر رکعت کے بدلے پیغمبری کا ثواب ملتاہے۔ جو شخص عشاء کے بعد چار رکعت نماز اداکرےبغیر حساب کے بہشت میں جائے گااور یہ نماز سوائے خدا کے دوست کے اور کوئی ادا نہیں کرتا۔

    پھر فرمایا کہ جو شخص نماز زیادہ کرتاہےوہ حساب میں بہت زیادہ رہتاہے اورجو بدی کرتاہے نیکی زیادہ ہوتی ہے۔

    پھر فرمایا کہ مومن کو منافق اور لعنتی کے سوا اور کوئی نہیں ستاتا۔ جو نہی خواجہ صاحب نے ان فوائد کو ختم کیا۔ خلقت اور دعاء گو واپس چلے آئے۔ الحمد للہ علی ذٰلک*

    مجلس (۸)

    گالی دینے کا ذکر ہوا تو آپؒ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ جو شخص مومن کو گالی دیتاہے وہ گویا اپنی ماں اور لڑکی کے ساتھ زنا کرتاہے اورایسے ہے جیسے موسیٰ علیہ السلام کی لڑائی میں فرعون کی مدد کرنا۔

    پھر فرمایا کہ جو شخص مومن کو گالی دیتاہے اس کی دعا چند روز تک قبول نہیں ہوتی اور اگر بغیر توبہ کئے مرجائےتو گنہگار ٹھہرتاہے۔

    اور کھانے کا ذکر آیا۔ جب کھانا آیا تو آپؒ نے فرمایا کہ کھانا دسترخوان میں لاؤ تاکہ اس کے اوپر رکھ کر کھائیں۔ گو رسولِ خدا نے دستر خوان پر طعام نہیں کھایا لیکن دستر خوان پر رکھ کر کھانے کو منع بھی نہیں فرمایا۔ اگر کھالیں تو جائزہےلیکن آؤ!سب مل کر کھائیں۔ اور ایسا کریں جیسا کہ میرے بھائی عیسیٰ علیہ السلام نے کیاہے۔

    پھر فرمایا کہ حضرت موسی علیہ السلام کے دستر خوان کا رنگ سرخ تھا جو آسمان سے اترتا تھا اور اس میں سات روٹیاں اور پانچ سیرنمک ہوتاتھا۔ پس جو شخص دستر خوان پر روٹی نمک کے ساتھ کھائے ہر لقمہ کے ساتھ سو نیکی لکھتے ہیں اور سو درجے بہشت میں زیادہ کرتے ہیں اوربہشت میں موسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ ہوتاہے۔ جو شخص سرُخ دسترخوان پر نمک کے ساتھ روٹی کھاتاہے اسے بہشت میں ایک شہر ملتاہے اور جب روٹی کھانے سے پہلے فارغ ہوتاہے خداوند تعالیٰ اس کے تمام گناہ بخش دیتاہے۔

    پھر فرمایا کہ خواجہ مودود حسن رحمۃ اللہ علیہ کی زبانی سناہے کہ جو شخص سرخ دستر خوان پر روٹی کھاتاہے خداوند تعالیٰ اسے نظر رحمت سے دیکھتاہے۔

    پھر فرمایا کہ شمس العارفین اور یہ نام ان کا رسول ؐ کے روضہ مبارک سے پڑا، یہ اس طرح پر ہوا کہ جس روز وہ رسول اللہ علیہ و اٰلہ وسلم کے روضہ مبارک پر پہنچا اور سلام کیا تو آواز آئی (علیک السّلام یا شمسس العارفین) اسے شمس العارفین تجھ پر سلام۔

    پھر فرمایا کہ یہی معاملہ امام اعظم رضی اللہ عنہ سے پیش آیا تھا۔ جب آپ ابتدائی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک پر پہنچے اور کہاکہ اے مرسلوں کے سردار! تجھ پر سلام ہوتو آواز آئی۔ علیک السّلام یا امام المسلمین! اے مسلمانوں کے امام! تجھ پر سلام ہو۔

    پھر فرمایا کہ خواجہ بایز یدبسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا خطاب سلطان العارفین آسمان سے تھا چنانچہ ایک رات آدھی رات کے وقت اٹھ کر مکان کی چھت پر آکر خلقت کو سویا دیکھااور کسی شخص کو جاگتے ہوئے نہ پایا۔ خواجہ صاحب کے دل میں خیال گزرا کہ افسوس! ایسی باعظمت درگاہ میں بیدار اور مشغول کیوں نہیں ہیں۔ چاہا کہ خداوند تعالیٰ سے ساری خلقت کے جاگنے اور مشغول ہونے کی دعا کریں۔ پھر دل میں خیال آیا کہ شفاعت کا مقام سرور کائنات ؐ کاہے۔ مجھے کیا مجال ہے کہ ایسی درخواست کروں۔

    جونہی دل میں یہ خیال پیدا ہوا غیب سے آواز آئی کہ اے بایزید! اس قدر ادب جو تونے ملحوظ رکھا میں نے تیرا نام خلقت میں سلطان العارفین رکھا۔

    پھر فرمایا کہ احمد مشعوق رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ بھی ایساہی ہوا تھا کہ ایک دفعہ آپ جاڑے کے موسم میں چلّے کی رات نصف شب کے قریب جب باہر نکلے تو پانی میں چلے گئے اور دل میں ٹھان لیا کہ جب تک مجھے یہ معلوم نہ ہوجائے گاکہ میں کون ہوں ہر گز پانی سے باہر نہ نکلوں گا۔ آواز آئی کہ تو وہ شخص ہے جس کی شفاعت سے قیامت کے دن بہت سے آدمی بخشے جائیں گے۔

    شیخ احمد نے کہا میں یہ بات پسند کرتا لیکن مجھے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ میں کون ہوں۔ پھر آواز سنی کہ میں نے حکم کیاہے کہ تمام درویش اور عارف میرے عاشق ہوں اور تو میرا معشوق ہو*

    پھر خواجہ صاحب وہاں سے باہر نکلے۔ جو شخص آپ کو ملتا السّلام علیکم احمد معشوق کہتا۔

    پھر فرمایا کہ شمس العارفین نماز ادا نہ کرتے تھے۔ جب لوگوں نے آپ سے اس کا سبب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ نماز بغیر سورہ فاتحہ کے پڑھتاہوں۔ لوگوں نے کہا کہ یہ کیسی نماز ہے۔ پھر لوگوں نےالتجاء کی تو آپ نے فرمایا کہ سورۃ فاتحہ تو پڑھتاہوں لیکن اِیَّا کَ نَعْبُدُ واِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ نہیں پڑھتا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ ضرور پڑھیں۔

    اس کے بعد دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ جب نماز کے لئے کھڑے ہوئےاور سورۃ فاتحہ پڑھناشروع کیا۔ جب اِیَّا کَ نَعْبُدُ واِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ پر پہنچے تو آپ کے وجود مبارک کے ہر رونگٹے سے خون جاری ہوگیا۔

    پھر حاضرین کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا کہ میرے لئے نماز درست نہیں ۔ گو لوگ تو کہتے ہیں کہ میں نماز ادا کرتاہوں۔

    جب خواجہ صاحب ان فوائد کو ختم کر چکے تو یادِ خدا میں میں مشغول ہوئے اور خلقت اور دعاء گو واپس چلے آئے۔ الحمد للہِ علی ذٰلک*

    مجلس (۹)

    روزی کمانے اور کام کرنے کے بارے میں گفتگو ہوئی تو آپ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک شخص نے اٹھ کر پوچھا، اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے پیشے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آنحضرت نے فرمایا کہ تیرا پیشہ کیاہے؟ اس نے عرض کیا کہ درزی کا کام۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تو راستی سے یہ کام کرے تو بہت اچھا ہے۔ قیامت کے دن تو ادریس پیغمبر کے ہمراہ بہشت میں جائے گا۔پھر ایک اور آدمی نے اٹھ کر عرض کیا کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے پیشے کی نسبت آپ کی کیا رائے ہے۔ آنحضرت نے فرمایا کہ تو کیا کام کرتاہے؟ اس نے عرض کیا کہ کھیتی باڑی۔آنجناب نے فرمایاکہ یہ بہت اچھا کام ہے۔ اس واسطے کہ یہ کام ابراہیم علیہ السلام کا تھا۔ یہ مبارک اور فائدہ مند کام ہے۔ خدا وند تعالیٰ ابراہیم علیہ السلام کی دعا سے تجھے برکت دے گا اور قیامت کے دن بہشت میں تو ابرہیم علیہ السلام کے نزدیک ہوگا۔ پھر ایک اور آدمی نے اٹھ کر عرض کیا کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ کی رائے میں میرا پیشہ کیسا ہے؟ آنحضرت نے فرمایا کہ تو کیا کام کرتاہے؟ اس نے عرض کیاکہ میرا کام تعلیم ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تیرے کام کو خداوند تعالیٰ نے بہت ہی اچھا جانتاہے۔اگر تو خلقت کو نصیحت کرے گا تو قیامت کے دن خضر علیہ السلام کا سا ثواب تجھے ملے گا اور اگر تو عدل کرے گا تو آسمان کے فرشتے تیرے لئے معافی کے خواستگار ہوں گے۔ پھر ایک اور آدمی نے اٹھ کر عرض کیا کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! میرے پیشے کی نسبت آپ کیا فرماتے ہیں۔ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ تیرا پیشہ کیاہے؟ اس نے عرض کیاکہ سودا گری۔ آنحضرت نے فرمایا کہ اگر تو راستی سے کام کرے گاتو بہشت میں پیغمبری کا ہمراہی ہوگا۔

    پھر فرمایا کہ روزی کمانے والا خدا کا دوست ہوتا ہے لیکن اسے چاہئے کہ نماز ہر وقت ادا کرے اور شریعت کی حدسے قدم باہر نہ رکھّے کیونکہ حدیث میں ہے کہ ایسا روزی کمانے والا خدا کا پیارا اور خدا کا صدیق ہے۔

    پھر فرمایا کہ ابو درداء رضی اللہ عنہ دکانداری کیا کرتے تھے۔ جب آخری زمانے میں آپ کو مسلمانی کی حقیقت معلوم ہوئی تو آپ نے دکانداری ترک کردیا۔ لوگوں نے کہا کہ آپ نے دکان کیوں چھوڑ دی؟ آپ نے فرمایا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ دکانداری کے ہمراہ مسلمانی ٹھیک طورپر نہیں رہتی تو میں نے دکانداری چھوڑ دیا۔پھر فرمایا کہ روزی کمانے والا خدا کا صدیق ہوتاہے کیونکہ اس شخص کو خدا پر بھروسہ ہے اور اس شخص پر روزی کمانا کفر ہے بشرطیکہ جس وقت نماز کا وقت قریب ہوسب کام دھندے چھوڑ کر نماز ادا کرے تو ایسا روزی کمانے والا صدیق ہے۔

    جونہی خواجہ صاحب نے ان فوائد کو ختم کیا خلقت اور دعا گو واپس چلے آئے۔ الحمد للہِ علی ذٰلکَ*

    مجلس (۱۲)

    سلام کہنے کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو آپ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث میں آیاہے کہ جب مجلس سے اُٹھے تو سلام کہے کیونکہ سلام کہنا گناہوں کا کفارہ ہے،فرشتے اس کے لئے بخشش کے خواستگار ہوتے ہیں۔ جو شخص مجلس سے اٹھتے وقت سلام کہتاہے تو خداوند تعالیٰ کی رحمت اس پر نازل ہوتی ہے اور اس کی نیکیاں اور زندگی زیادہ ہوتی ہے۔

    پھر فرمایا کہ میں نے خواجہ یوسفؒ حسن چشتی کی زبانی سنا ہے کہ جب کوئی شخص مجلس سے اٹھتاہے اور سلام کہتاہے تو اسے ہزار نیکیاں ملتی ہیں اور اس کی ہزار حاجتیں روا ہوتی ہیں۔ وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتاہےگویا کہ ماں کے شکم سے نکلاہے ۔اس کےایک سال کے گناہ بخشتے ہیں اور ایک سال کی عبادت اس کے اعمال نامے میں درج کرتے ہیں اور سو حج اور عمرہ اس کے نام لکھتے ہیں اور رحمت کے سو تھال اس بندے کے سر پر قربان کرتے ہیں۔

    پھر فرمایا کہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے چاہا کہ کوئی ایسا موقع ملے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تشریف لانے کے وقت یا تشریف لے جانے کے وقت میں سلام کہو ں لیکن موقع نہ ملا۔ جب کبھی میں نے سلام کرنا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی سلام کہتے۔ کہتے ہیں کہ سلام کرنا نبیوں کی سنت ہے ۔تمام پیغمبرؑ جو گزرے ہیں سب سے پہلے سلام کہا کرتے تھے۔

    جونہی خواجہ صاحب نے ان فوائد کو ختم کیا آپؒ یاد الٰہی میں مشغول ہوگئے اور خلقت اور دعا گو واپس چلے آئے۔ اَلْحَمْدُ لِلہِ عَلی ذٰلِکَ*

    مجلس (۲۵)

    درویشوں کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی۔ آپ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ رسول اللہؐ سے حدیث میں ہے کہ جو شخص درویشوں کو کھانا کھلاتاہے وہ تمام گناہوں سے پاک ہوجاتاہے۔

    پھرفرمایا کہ تین قسم کے لوگ بہشت کی طرف نہیں آئیں گے۔ ایک جھوٹ بولنے والا درویش ،دوسرا بخیل دولتمند اور تیسرا خیانت کرنے والا سوداگر۔ تینوں کو سخت عذاب ہوگا۔ پس جب درویش جھوٹا اور دولتمند بخیل بن جائے اور سودا گر خیانت کرنے والا ہوجائے تو خدا وند تعالیٰ دینا سے برکت اٹھا لیتاہے۔

    پھر فرمایا کہ جو شخص دن رات میں ہر نماز کے بعد سورۃ یٰسین اور آیۃ الکرسی ایک دفعہ اور قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدْ تین مرتبہ پڑھےاور خدا وند تعالیٰ اس کے مال اور اس کی عمر کو زیاہ کرتاہے اور اس کو قیامت کے میزان اور پُل صراط کے حساب میں آسانی ہوتی ہے۔

    جونہی خواجہ صاحب نے ان فوائد کو ختم کیا، آپ یاد الٰہی میں مشغول ہوگئے اور خلقت اور دعا گو واپس چلے آئے۔ اَلْحَمْدُ لِلہِ عَلی ذٰلِکَ*

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites