دل امت میں ان کے دخل پائے کیوں پریشانی
دلچسپ معلومات
زیرِ نظر کلام خواجہ نور محمد چشتی مہاروی کے عرسِ مقدس کے موقع پر بتاریخ 9 مئی 1935ء، محلہ پیپلی کاٹیان، جئے پور میں منعقد ہونے والے ایک طرحی مشاعرے میں پیش کیا گیا، اس مشاعرے کے لیے مصرعِ طرح "بزمِ اقدس ہو کے کر لو قلبِ نورانی" مقرر کیا گیا تھا، بعد ازاں اس مشاعرے میں شریک شعرا کے تمام کلام کو "مظہرِ معرفت" کے آخری حصہ میں شامل کیا گیا۔
دل امت میں ان کے دخل پائے کیوں پریشانی
عیاں ہے ان کے جلوے سے سراپا شانِ یزدانی
نہیں ہمسر کوئی ان کا نہیں ان کا کوئی ثانی
حسینوں میں ہیں وہ یکتا عجب ہے شکل نورانی
بھریں دم کیوں نہ سب مل کر تمہاری ذاتِ اقدس کا
فرنگی کابلی ہندی سمر قندی خراسانی
زہے طالع زہے قسمت مبارک ہو تمہیں مژدہ
بہارِ باغ جنت کا غلامانِ سلیمانی
بسر کر دوں نہ کیوں آبادؔ میں جا کر مدینہ میں
کمال فضل و رحمت کی رہا کرتی ہے ارزانی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.