پئے مرشد پیا سوز گداز آقا عطا کر دو
پئے مرشد پیا سوز گداز آقا عطا کر دو
ختم بے باکیاں میری شہ ہر دوسرا کر دو
تمہارے در تمہارے آستاں کا ادنیٰ سا سگ ہوں
سگ در پر کرم یا مصطفییٰ خیرالوریٰ کر دو
میرا ہنسنا چھڑا کر مجھ کو تم رونا عطا کر دو
طفیل حضرت عطار یا شمس الضحیٰ کر دو
سنہری جالیوں کے سامنے آقا ترستا ہوں
مجھے دیدار اب آقا ذرا اپنا عطا کر دو
جھلک اک دیکھنے کے واسطے جانب مواجہ کے
لیے امید حاضر ہوں کرم نور خدا کر دو
حسین ابن علی اور فاطمہ زہرا کے صدقے میں
ادب طیبہ کی گلیوں کا مجھے آقا عطا کر دو
عہد جو اپنی امت کے گنہگاروں کی بخشش کا
کیا جو آپ کے رب نے ہے مجھ پر وہ وفا کر دو
سگ عطار بد اطوار کاہل نیکیوں کا ہے
عبادت میں لگادو دل اسے تقویٰ عطا کر دو
تمنا آپ کے عابدؔ کی ہے جب حوض کوثر پر
چھلکتا جام دو آقا لب اقدس لگا کر دو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.