Font by Mehr Nastaliq Web

چھوٹتا ہے تیرا دربار مدینے والے

عابد علی عطاری

چھوٹتا ہے تیرا دربار مدینے والے

عابد علی عطاری

MORE BYعابد علی عطاری

    چھوٹتا ہے تیرا دربار مدینے والے

    اب سے پھر ہوں میں طلب گار مدینے والے

    دشت طیبہ کی بہاروں سا نہ کوئی منظر

    اس سا کوئی نہیں گلزار مدینے والے

    آہ اس در کا کہاں طرز ادب ہے مجھ میں

    عفو کا ہوں میں طلبگار مدینے والے

    سیدی حمزہ احد کی وہ سہانی یادیں

    یاد آتے ہیں وہ کہسار مدینے والے

    کوئی بنتا ہے کسی کا تو کسی کا کوئی

    بس آپ ہی ہیں میرے دل دار مدینے والے

    آپ کے در کے محب جتنے کبوتر ہیں حضور

    ان سے بے حد ہے مجھے پیار مدینے والے

    آپ کے در پہ جو نعتوں سے ہمیں روکتے ہیں

    اپنا دل ان سے ہے بیزار مدینے والے

    ہم نے مکے کے گلی کوچوں میں اکثر دیکھے

    ہر جگہ تیرے ہی انوار مدینے والے

    ہر خطا عفو کی طالب ہے کرم کر دیجیے

    تیرا عابدؔ ہے سیاہ کار مدینے والے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے