چھوٹتا ہے تیرا دربار مدینے والے
چھوٹتا ہے تیرا دربار مدینے والے
اب سے پھر ہوں میں طلب گار مدینے والے
دشت طیبہ کی بہاروں سا نہ کوئی منظر
اس سا کوئی نہیں گلزار مدینے والے
آہ اس در کا کہاں طرز ادب ہے مجھ میں
عفو کا ہوں میں طلبگار مدینے والے
سیدی حمزہ احد کی وہ سہانی یادیں
یاد آتے ہیں وہ کہسار مدینے والے
کوئی بنتا ہے کسی کا تو کسی کا کوئی
بس آپ ہی ہیں میرے دل دار مدینے والے
آپ کے در کے محب جتنے کبوتر ہیں حضور
ان سے بے حد ہے مجھے پیار مدینے والے
آپ کے در پہ جو نعتوں سے ہمیں روکتے ہیں
اپنا دل ان سے ہے بیزار مدینے والے
ہم نے مکے کے گلی کوچوں میں اکثر دیکھے
ہر جگہ تیرے ہی انوار مدینے والے
ہر خطا عفو کی طالب ہے کرم کر دیجیے
تیرا عابدؔ ہے سیاہ کار مدینے والے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.