رخ سے اب تو نقاب اٹھا دیجیے
رخ سے اب تو نقاب اٹھا دیجیے
اپنا جلوہ شہا دکھا دیجیے
کب سے طالب ہوں یا رسول اللہ
اک جھلک اب مجھے دکھا دیجیے
کیسا اجڑا ہے ہائے میرا دل
آقا اب تو اسے بسا دیجیے
یہ نکما ہو کام کا آقا
بھیک ایسی اسے عطا کیجیے
مجھ کو دولت نہ زر کی ہے چاہت
اپنا در بس مجھے عطا کیجیے
میری نسلوں پہ بھی کرم کر دیں
نوکری کا شرف عطا کیجیے
چار یاروں کا واسطہ ہے حضور
حوض کوثر مجھے پلا دیجیے
اہل بیت رسول کا منگتا
میرے گھر بار کو بنا دیجیے
وقت آخر میں اپنے عابد کو
اپنے قدموں میں ہی جگہ دیجیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.