شبستانِ جہاں میں شمعِ ذاتِ کبریا آئے
شبستانِ جہاں میں شمعِ ذاتِ کبریا آئے
ریاض کن فکاں میں کنت کنزا برملا آئے
سراجِ حق نما بن کر جہاں کے رہنما آئے
فروغِ بزمِ یزدانی تجلی کی ضیا آئے
ھوالاول ھوالآخر ھوالظاہر ھوالباطن
ازل کی ابتدا آئے ابد کی انتہا آئے
جہانِ رنگ و بو کیا ہے بہارِ حسنِ احمد ہے
گل و لالہ مہ و انجم نقوشِ دست و پا آئے
ازل ہی سے زمانہ منتظر تھا جن کی آمد کا
وہ جان آرزو آئے وہ روحِ مدعا آئے
مرے دل میں بسا دے یادِ احمد اس طرح یا رب
بجز ان کے نہ ہرگز پھر خیالِ ماسوا آئے
جبینِ عشق کو یا رب عطا حسنِ عقیدت کر
وہیں جھک جائے سر جس جا نبی کا نقشِ پا آئے
دریچے خلد کے کھلنا مبارک ہو تجھے واعظ!
مری تربت میں طیبہ کی ہوائے جاں فزا آئے
مرے معبود اتنی التجا ہے تیرے عابدؔ کی
جبیں ہو آستانِ مصطفیٰ ہو جب قضا آئے
- کتاب : Monthly Na'at, Lahore (Pg. 06)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.