Font by Mehr Nastaliq Web

جمال مصطفیٰ کی روشنی ہے بزمِ امکاں میں

عابد بریلوی

جمال مصطفیٰ کی روشنی ہے بزمِ امکاں میں

عابد بریلوی

MORE BYعابد بریلوی

    جمال مصطفیٰ کی روشنی ہے بزمِ امکاں میں

    گلِ باغِ رسالت کی مہک ہے ہر گلستاں میں

    تلاش جان جاں ہے گر تمہیں مجھ سے پتا سن لو

    انہیں پاؤ گے اکثر چشمِ گریاں زخم خنداں میں

    نظر دیکھے بھلا رخ کی تجلی غیر ممکن ہے

    سما جاتے ہیں لیکن ان کے جلوے قلبِ ویراں میں

    ہر اک ذرہ ہے رشکِ مہر ہر کانٹا گلستاں ہے

    کبھی دیکھا نہیں زاہد نے جا کر کوئے جاناں میں

    قسم کھاتا ہو جس کے گیسو و رخ کی وہ خالق بھی

    بتاؤ ہے کوئی ایسا بھی یوسف یوسفستاں میں

    تمہی دل ہو تمہی جاں ہو تمہی ہو دین و ایماں سب

    تمہاری آرزو دل میں تمہی ہو دل کے ارماں میں

    جنابِ عائشہ گم گشتہ سوزن ڈھونڈھ لیتی ہیں

    چمک اللہ اکبر کس قدر ہے دُرِّ دنداں میں

    تری رحمت کی وسعت اے تعالیٰ اللہ تعالیٰ اللہ

    چلے آئے سمٹ کر ہر دو عالم تیرے داماں میں

    ثنا کس طرح ممکن ہو بھلا ہم سے محمد کی

    صفت جس کی بیاں کرتا ہو خالق خود ہی قرآں میں

    مأخذ :
    • کتاب : Monthly Na'at, Lahore (Pg. 14)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے