Font by Mehr Nastaliq Web

کیا جمالِ حور دیکھوں روئے جاناں دیکھ کر

عابد بریلوی

کیا جمالِ حور دیکھوں روئے جاناں دیکھ کر

عابد بریلوی

MORE BYعابد بریلوی

    کیا جمالِ حور دیکھوں روئے جاناں دیکھ کر

    سیرِ جنت کیا کروں طیبہ کی گلیاں دیکھ کر

    کس قدر حیرت زدہ ہیں عرشی و نوری تمام

    افتخار و اعتلا و شانِ انساں دیکھ کر

    کیجیے توصیف رخ کی گیسوئے خمدار کی

    متنِ قرآں دیکھیے اب شامِ ہجراں دیکھ کر

    چشم موسیٰ سیر ہوتی ہی نہیں دیدار سے

    آ رہے ہیں شاہِ خوباں روئے یزداں دیکھ کر

    اک جھلک ہی دیکھ کر بے ہوش موسیٰ ہوگئے

    شاہ خوباں آر ہے ہیں روئے یزداں دیکھ کر

    جسم کا سایہ نہ ہو سایہ فگن عالم پہ ہو

    محوِ حیرت ہے زمانہ ایسا انساں دیکھ کر

    حضرت روح الامیں کو ناز تھا پرواز پر

    ہوش پرّاں ہوگئے پروازِ انساں دیکھ کر

    اے میں قرباں کس قدر بے چین آقا ہوگئے

    روزِ محشر اپنی امت کو پریشاں دیکھ کر

    ان کی رحمت کے تصدق لے لیا بڑھ کر مجھے

    کس قدر مایوس تھا میں فرد عصیاں دیکھ کر

    مأخذ :
    • کتاب : Monthly Na'at, Lahore (Pg. 22)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے