کیا جمالِ حور دیکھوں روئے جاناں دیکھ کر
کیا جمالِ حور دیکھوں روئے جاناں دیکھ کر
سیرِ جنت کیا کروں طیبہ کی گلیاں دیکھ کر
کس قدر حیرت زدہ ہیں عرشی و نوری تمام
افتخار و اعتلا و شانِ انساں دیکھ کر
کیجیے توصیف رخ کی گیسوئے خمدار کی
متنِ قرآں دیکھیے اب شامِ ہجراں دیکھ کر
چشم موسیٰ سیر ہوتی ہی نہیں دیدار سے
آ رہے ہیں شاہِ خوباں روئے یزداں دیکھ کر
اک جھلک ہی دیکھ کر بے ہوش موسیٰ ہوگئے
شاہ خوباں آر ہے ہیں روئے یزداں دیکھ کر
جسم کا سایہ نہ ہو سایہ فگن عالم پہ ہو
محوِ حیرت ہے زمانہ ایسا انساں دیکھ کر
حضرت روح الامیں کو ناز تھا پرواز پر
ہوش پرّاں ہوگئے پروازِ انساں دیکھ کر
اے میں قرباں کس قدر بے چین آقا ہوگئے
روزِ محشر اپنی امت کو پریشاں دیکھ کر
ان کی رحمت کے تصدق لے لیا بڑھ کر مجھے
کس قدر مایوس تھا میں فرد عصیاں دیکھ کر
- کتاب : Monthly Na'at, Lahore (Pg. 22)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.