فراز عرشِ اعظم نورِ یزداں دیکھتے جاؤ
فراز عرشِ اعظم نورِ یزداں دیکھتے جاؤ
شبِ اسرا علوِ شانِ انساں دیکھتے جاؤ
تجلی کی تمنا رکھنے والو روئے احمد میں
جمالِ پاکِ رحماں نورِ سبحاں دیکھتے جاؤ
تجلی کی تمنا ہے اگر اے موسیٰ و عمراں
رسولِ ہاشمی کا روئے تاباں دیکھتے جاؤ
تمنا ہے اگر دل میں تجلی طور کی دیکھیں
تو عرفاں کی نظر سے برقِ فاراں دیکھتے جاؤ
جو بستر ہے چٹائی کا تو تکیہ دستِ اقدس کا
شہنشاہِ دو عالم کا یہ ساماں دیکھتے جاؤ
کہاں جنت میں پاؤ گے جنابِ حضرت واعظ
مدینہ کی فضائے نور افشاں دیکھتے جاؤ
اگر نورِ بصیرت ہو تو دیکھو مصحفِ ناطق
حقیقت کی نظر سے عین ایماں دیکھتے جاؤ
اگر جنت کا نظارہ تمہیں دنیا میں کرنا ہے
مدینہ کی گلی میں باغِ رضواں دیکھتے جاؤ
ادھر آؤ مہ و انجم کی محفل دیکھنے والو
غلامانِ محمد کی شبستاں دیکھتے جاؤ
- کتاب : Monthly Na'at, Lahore (Pg. 24)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.