تجھے ہمدم بتاؤں کیا مقامِ مصطفیٰ ہوگا
تجھے ہمدم بتاؤں کیا مقامِ مصطفیٰ ہوگا
تخیل سے ورا ہوگا وریٰ سے ماورا ہوگا
رضائے رب بروز حشر سب کا مدعا ہوگا
محمد کی رضا لیکن خدا خود چاہتا ہوگا
جو مختار دو عالم ہے وہ مختارِ جزا ہوگا
جو یاں فرماں روا ہے وہ وہاں فرماں روا ہوگا
خدا کو ڈھونڈنے والو اشارہ اتنا کافی ہے
جہاں محبوبِ رب ہوگا وہیں وہ کبریا ہوگا
کلید بابِ جنت گردشِ چشمِ شفاعت ہے
اسی جانب خدا ہوگا جدھر خیرالوریٰ ہوگا
اگر دیوانگی سے مل گئی فرصت کبھی ہمدم
جبین عشق ہوگی مصطفیٰ کا نقشِ پا ہوگا
قیامت میں نظر آئے گا اصلی روپ احمد کا
ملک حیران ہوں گے وہ عروجِ مصطفیٰ ہوگا
زبانِ شوق پیش حسن ہرگز کھل نہیں سکتی
ادا نمناک آنکھوں سے ہی حرفِ مدعا ہوگا
مہ و خورشید بن جائیں گے ذرے قبرِ عابدؔ کے
تجلی بار جب شمس الضحیٰ بدرالدجیٰ ہوگا
- کتاب : Monthly Na'at, Lahore (Pg. 88)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.