زمیں ان کی زماں ان کا خدائی اور خدا ان کا
زمیں ان کی زماں ان کا خدائی اور خدا ان کا
محمد مل گئے جن کو نہیں پھر اور کیا ان کا
وہی ہیں مالک کونین ہے ارض و سما ان کا
وہ مملوکِ خدا ہیں اور ہے ملکِ خدا ان کا
پھرا الٹے قدم سورج اشارہ ہوگیا ان کا
اجابت دوڑ کر آئی اٹھا دستِ دعا ان کا
مقدر کھل گیا دل کا پیا جامِ ولا ان کا
کھلی قسمت جبیں کی مل گیا جو نقشِ پا ان کا
خدائی کے خزانے بٹ رہے ہیں ان کے ہاتھوں سے
زمین و آسماں میں پا رہے ہیں سب دیا ان کا
ہر اک تشنہ وہاں سیراب ہوتا ہے یہیں آ کر
ازل سے تا ابد مواج ہے بحرِ سخا ان کا
تمنا دید کی جس کو ہو آ کر دیکھ لے ان کو
تجلی روئے حق کی ہے یہ روئے پُر ضیا ان کا
خطائیں بخش دے مولیٰ تصدق اپنی رحمت کا
الہ العالمیں ہم دے رہے ہیں واسطہ ان کا
بحمداللہ ہوا دنیا سے رخصت کامراں ہوکر
دم آخر لبوں پر نامِ اقدس آ گیا ان کا
- کتاب : Monthly Na'at, Lahore (Pg. 86)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.