نہ پوچھ ہجرِ نبی میں ہیں لذتیں کیسی
نہ پوچھ ہجرِ نبی میں ہیں لذتیں کیسی
سرور بخش ہیں اس غم کی راحتیں کیسی
مدینے جاتی ہے دن رات میرے دل کی لگن
لگن کو فاصلے کیسے مسافتیں کیسی
حضور آپ کے در کی گدائی کے آگے
جہاں کی خسروی کیسی حکومتیں کیسی
جو رب نے خاتمِ مرسل کہا محمد کو
تو اس میں حجتیں کیسی وضاحتیں کیسی
ہوائے ختمِ نبوت کے روبرو گئے کیوں
’’جو بجھ گئے تو ہوا سے شکایتیں کیسی‘‘
جو گوش بو لہبی ہو نظر ہو بو جہلی
تو پھر سماعتیں کیسی بصارتیں کیسی
غمِ حضور میں جو دل ہے روز و شب مضطرؔ
فدا ہیں اس پہ نہ پوچھو مسرتیں کیسی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.