نکالا سوچ کر مضمون میں نے اپنے مقصد کا
دلچسپ معلومات
زیرِ نظر کلام خواجہ نور محمد چشتی مہاروی کے سالانہ عرسِ مقدس کے موقع پر بتاریخ 17 مارچ 1935ء، محلہ پیپلی کاٹیان، جئے پور میں منعقد ہونے والے ایک طرحی مشاعرے میں پیش کیا گیا، اس مشاعرے کے لیے مصرعِ طرح "ظہورِ دو جہاں ہے پرتو انوارِ محمد کا" مقرر کیا گیا تھا، بعد ازاں اس مشاعرے میں شریک شعرا کے تمام کلام کو "مظہرِ معرفت" کے نام سے شائع کیا گیا۔
نکالا سوچ کر مضمون میں نے اپنے مقصد کا
کھلا اچھا شگوفہ کلک سے وصفِ محمد کا
خدا کے گھر سے مستو جب ہوں میں انعام بے حد کا
رقم پیدا کیا کیا طرفہ بسم اللہ کے مد کا
سر دیواں لکھا ہے میں نے مطلع نعت احمد کا
گماں ہوتا ہر اک دیندار پر زندیق و مرتد کا
نہ ہوتا کوئی بھی قائل خدا کی گٹھ بے حد کا
تجلی سے فزوں دنیا میں ہے جلوہ محمد کا
طلوع روشنی جیسے نشاں ہو شہ کی آمد کا
ظہورِ حق کی حجت ہے جہاں میں نور احمد کا
ہوا ہے آدم و حوا سے بھی پہلے ظہور اس کا
وہی ہے اول و آخر کا ملجا اور وہی ماوا
رسولِ پاک کی تم ابتدا کو پوچھتے ہو کیا
دبستانِ ازل میں وہ معلم عقل کل کا تھا
نہ تھا نام و نشاں جن روزوں اس لوحِ زبرجد کا
ہر اک عرشی ہے حاضر باش اس کی بزمِ رنگیں میں
خدا کی شان ہے ہمتاش اس کی بزم رنگیں میں
قلم کا رقضا نقاش اس کی بزم رنگیں میں
چمن پیرائے کن فراش اس کی بزم رنگیں میں
بہار آفرینش ایک بوٹا اس کی مسند کا
طلوع مہر دیں ملک عرب سے جب ہوا پیدا
لگا جلنے چمن تابش سے اس کی کفر و بدعت کا
تعالی اللہ کتنا رعب ختم المرسلیں کا تھا
عجم میں زلزلہ نوشیرواں کے قصر میں آیا
عرب میں شور اٹھا جس وقت اس کی آمد آمد کا
کیے احکام دیں جاری جب اس ختم رسالت نے
ہوئے منسوخ جتنے تھے صحائف اور نبیوں کے
خلف وہ ہے جو سبقت جد و آبا پر بھی لے جائے
شرف حاصل ہوا آدم اور ابراہیم کو اس سے
نہ تھا فخرِ دوعالم فخر تھا اپنے اب و جد کا
محل میں بے سبب وہ یار پاتا کب یہ امکاں تھا
مگر مشتاقِ دیدار جمال جانشیناں تھا
اسی باعث سے وہ سرگرم خدمت با دل و جاں تھا
شب و روز ان کے صاحبزادوں کا گہوارہ جنیناں تھا
عجب ڈھب یاد تھا روح الامیں کو بھی خوشامد کا
کیا سیراب آبِ مکرمت سے گلشنِ دیں کو
بڑھایا جلوہ بے سایئگی نے حسن تمکیں کو
نہ چھوڑا ہاتھ سے کثرت میں بھی وحدت کے آئیں کو
وہ اس عالم میں رونق بخش تھا حوروں کی تسکیں کو
گیا جنت میں طوبیٰ بن کے سایہ اس سہی قد کا
ہوئے تھے نردبان چرخ بھی خاص اس لیے پیدا
کہ ہووے گا گزر اک روز یاں ختم رسالت کا
وہ گو تھا شکلِ انساں جلوہ گر لیکن کہاں پہنچا
شبِ معراج چڑھ کر عرش سے دم میں اتر آیا
بیاں اس قلزم معنی کے ہو کیا جزر اور مد کا
عیاں نور قدم روئے تجلی تاب سے جس کے
ہوئے روشن دوعالم گوہرِ نایاب سے جس کے
جہاں کی آبیاری گلشنِ شاداب سے جس کے
رواں تسنیم و کوثر ایک قطرہ آب سے جس کے
کروں کیا وصف اس درِ یتیمِ بحر سرمد کا
دیا اللہ نے علمِ لدنی کا سبق اس کو
دکھایا آپ علمِ معرفت کا ہر ورق اس کو
نہ کیوں ہو سہل سے بھی سہل ہر امرادق اس کو
کشادہ عقدۂ باطن میں کافی نام حق اس کو
کھلا کرتا ہے بِن کنجی ہمیشہ قفل ابجد کا
بڑی سرکار ہے اللہ کی اور اس میں جو کچھ تھا
عنایت سے کرم سے وہ رسولِ پاک کو بخشا
نظر اے اہلِ باطن ایک ادنیٰ ہے یہ وصف اس کا
وفاتِ ظاہری سے جوہرِ جاں میں نہ فرق آیا
وہ جسمِ پاک گو محسود تھا روح مجرد کا
وہاں کیا کر سکے کوئی جہاں ہو مہرِ یزداں کی
اطاعت عالمِ اسباب میں ہے فرض سلطاں کی
کوئی مانے نہ مانے میں کہوں گا بات ایماں کی
نہ کم قدر اس کے شیرازہ بکھر جانے سے ارکاں کی
نہ افزوں رتبہ قرآن مجز اسے مجلد کا
اسے کیا خوفِ دشمن جو قضا پر کار فرما ہو
اسے کیا رنج زحمت جس کا ہر خادم مسیحا ہو
صفائے جسم اطہر کو بھلا تم پوچھتے کیا ہو
گر افعی بن کے جا نکلے ادھر ابلیس اندھا ہو
ملا ہے قصر اخضر روح کو اس کی زمرد کا
نہ سمجھا اس معمہ کو کوئی فرزانہ و عاقل
تجسس میں رہے برسوں اسی کے عارف و کامل
مگر قدرت کا آئینہ رسول پاک کا تھا دل
اُدھر لہ سے واصل ادھر مخلوق کے شامل
خواص اس برزخِ کبریٰ میں تھا حرفِ مشدد کا
ظہورِ پاک نے کیا کیا بڑھا یا دیں کی رونق کو
احد بنتا نہ احمد گر نہ رکھتے حرفِ الیق کو
یہ اک خالق کا نکتہ ہے کہ ظاہر کر دیا حق کو
گزر وحدت سے کثرت میں نہ ہوتا ذاتِ مطلق کو
نہ بنتا صفر گر نقشِ احد پر میم احمد کا
وہی کچھ خوب ہے جو تارکِ لذات دنیا ہو
وہی اچھا جسے غرضِ شفاعت کی تمنا ہو
محمد کی حقیقت میرے دل سے پوچھتے کیا ہو
بھروسہ دوجہاں میں اک حصار عافیت کا ہو
مجھے نامِ مبارک کا ہے ذوالقرنین کو سد کا
زمانہ پر کھلے تیرے سبب سے جوہرِ انساں
ہوئی حاصل تری باعث سے سب کو دولتِ ایماں
ثنا تیری لکھے کس کی مجال اے خواجۂ دوراں
تیری پاپوش سے ہفتم فلک پر منزل کیواں
تیرے سجدہ سے ہشتم آسماں پر فرق فرقد کا
ملی تیرے ہی در سے سرفرازی سر بلندوں کو
ترے باعث ہوئے رتبے عنایت ارجمندوں کو
نہیں پڑتی کسی دن عرضِ حاجت مستمندوں کو
خداب بن مانگے کیا کیا نعتمیں دیتا ہے بندوں کو
ترا دستِ دعا حامی ہے جب سے کل کے مقصد کا
اڑائیں گے مزے کل اہلِ ایماں بزم جنت میں
بٹیں گے جس گھڑی عشرت کے ساماں بزمِ جنت میں
ہر اک ہو جائے گا جاتے ہی حیراں بزمِ جنت میں
بن گئے جس گھڑی عشرت کے ساماں بزمِ جنت میں
کھلے گا حال خلقت کو ترے انعام بے حد کا
عجب اک یاس ہوگی حشر کے میداں میں خلقت کو
خیالِ زہد آئے گا گنہگارانِ امت کو
رسولِ پاک کی تم دیکھنا اس وقت رحمت کو
لبِ گوہر فشاں وا ہوں گے جب عرضِ شفاعت کو
تماشا گاہ محشر میں تکیں گے نیک منہ بد کا
ازل سے ہے ہر اک سنگ و شجر حضرت کا شیدائی
مقامِ خاص کا ہر ایک ہے دل سے تمنائی
الہٰ العالمیں اس کی تمنا کیوں نہ بر آئی
رہا کعبہ میں تیرے روضہ کی در پر نہ جا پائی
اسی اندوہ سے ہے رنگ تیرہ سنگ اسود کا
شقی دن رات غوطے کھائیں دریائے شقاوت میں
پھنسیں سن کر کمند فکر سے دامِ جہالت میں
در اندازی کرے ہر رخنہ گر حکمِ شریعت میں
عدو کو حشر تک انکار ہو تیری رسالت میں
محل باقی رہے اللہ کے قول موکد کا
شہنشاہِ دوعالم ذات ہے تیری شہ شاہاں
خدا نے تیری ذاتِ پاک پر نازل کیا قرآں
کہا لولاک تیری شان میں اے مخزن عرفاں
ہوا تجھ سا نہ ہوسکتا ہے میرا ہے یہی ایماں
نہ مانوں مسئلہ ہرگز کسی زندیق و مرتد کا
کوئی بیکار جاتی ہے بھلا میری عرق ریزی
عیاں ہے جوہرِ مضموں سے اک طرز دل آویزی
کروں کیوں کر نہ سلطان سخن بن بن کے چنگیزی
تری تعریف سے میری زباں میں آ گئی تیزی
صفاہاں تک مسخر ہوگا اس تیغِ مہند کا
حسد بیکار جائیں گے ہمیشہ کینہ کاروں کے
بنیں گے لنگ اس میدان میں گھوڑے شہسواروں کے
رہیں گے حشر تک باقی ہمیشہ ذکر یاروں کے
پھٹیں گے مثل تقویم کہن دیواں ہزاروں کے
ہوا عالم میں شہرہ میرے اشعار مجدد کا
تیرے جلوہ کی ہمت کچھ نہیں ہے آج کی طالب
ہمیشہ سے تصور میں ہے استمزاج کی طالب
نہ اس کو خواہشِ دولت نہ تخت وتاج کی طالب
ہوئی ہے ہمتِ عالی مری معراج کی طالب
میسر ہو طواف اے کاش اس کو تیرے مرقد کا
کبھی میں تیری راہِ شوق میں بن کر چلوں آنکھیں
کبھی میں ذوقِ نظارہ میں سر تا پا بنوں آنکھیں
ترے روضہ کو دیکھوں جب ان آنکھوں کو کہوں آنکھیں
کبھی نزدیک جاکر آستانہ پر ملوں آنکھیں
کبھی میں دور بیٹھوں اور کروں نظارہ گنبد کا
نظر سے زندگی گلشنِ باغ ارم گذرے
وہ راحت ہے مدینہ میں اگر مجھ پر الم گذرے
وہی عمرِ گرامی جو ترے زیرِ قدم گذرے
فراغ دل سے گر واں زندگی کا کوئی دم گذرے
حسد ہو خضر و عیسیٰ کو مرے عیشِ مخلد کا
اڑے باغِ جہاں سے اور ہم جنت میں جا بیٹھے
پسِ مردن اگر اس طرح سے بیٹھے تو کیا بیٹھے
ہماری آرزو ہے مرغِ جاں بن کر ہما بیٹھے
تمنا ہے درختوں پر ترے روضہ کے جا بیٹھے
قفس جس وقت ٹوٹے طائرِ روحِ مقید کا
پس مردن نہ لائق ہو کسی کے گو مرا لاشہ
مگر میں جانتا ہوں ہے یہ تسکیں جو مرا لاشہ
کسی جنگل میں اپنے کاش پھنکوا دو مرا لاشہ
مدینہ کی زمیں کے گر نہ لایق ہو مرا لاشہ
کسی صحرا میں واں کے طعمہ ہوں میں دام اور دو کا
کلامِ آگاہ کا نہ مملو نہ ہو کیوں لطفِ قدرت سے
بھری اس میں شکر ریزی ہے حق نے اپنی رحمت سے
مگر حسنِ بیاں افزوں ہے اپنا لطف نعمت سے
خدا منہ چوم لیتا ہے شہیدی کس محبت سے
زباں پر میری جس دم نام آتا ہے محمد کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.