تھے ایک وہ بھی کہ جو دیکھتے رہے برسوں
تھے ایک وہ بھی کہ جو دیکھتے رہے برسوں
نماز تیری، دعائیں تیری، وضو تیرا
ہیں ایک ہم بھی کہ ایک عمر ہونے آئی ہے
سراغ ڈھونڈتے پھرتے ہیں کوبکو تیرا
ہر ایک عہد نے تجھ کو خراج پیش کیا
ہر ایک عہد میں شہرہ تھا چار سو تیرا
ثبوت ہے تیری عظمت کا تیری رفعت کا
تیری ثنا پہ ہے مجبور خود عدو تیرا
میں کس طرح سے تہی دست مان لوں تجھ کو
کہ میرے ہاتھ میں ہے برگِ آرزو تیرا
ادا کروں تو کروں کیسے تیری نعت کا حق
مجھے نصیب نہیں طرزِ گفتگو تیرا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.