Font by Mehr Nastaliq Web

میں اکیلا چل رہا تھا زندگی کی راہ پر

عارف عبد المتین

میں اکیلا چل رہا تھا زندگی کی راہ پر

عارف عبد المتین

MORE BYعارف عبد المتین

    میں اکیلا چل رہا تھا زندگی کی راہ پر

    تیری یادوں سے ہوا ہوں کارواں در کارواں

    تیرے نقشِ پا سے پایا میں نے منزل کا سراغ

    میں کہ اپنے راستے کا آپ تھا سنگِ گراں

    تیرے لطفِ خاص سے حاصل ہوا عرفانِ سود

    ورنہ جینے ہی نہ دیتا تھا مجھے کربِ زیاں

    تجھ کو دو گونہ سفارت کا شرف تفویض ہے

    تو خدا کا ہی نہیں انساں کا بھی ہے ترجماں

    تیری رحمت میری ہستی کو سدا گھیرے رہے

    میں زمیں تیری بنوں میرا بنے تو آسماں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے