میں اکیلا چل رہا تھا زندگی کی راہ پر
میں اکیلا چل رہا تھا زندگی کی راہ پر
تیری یادوں سے ہوا ہوں کارواں در کارواں
تیرے نقشِ پا سے پایا میں نے منزل کا سراغ
میں کہ اپنے راستے کا آپ تھا سنگِ گراں
تیرے لطفِ خاص سے حاصل ہوا عرفانِ سود
ورنہ جینے ہی نہ دیتا تھا مجھے کربِ زیاں
تجھ کو دو گونہ سفارت کا شرف تفویض ہے
تو خدا کا ہی نہیں انساں کا بھی ہے ترجماں
تیری رحمت میری ہستی کو سدا گھیرے رہے
میں زمیں تیری بنوں میرا بنے تو آسماں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.