میرا اعزازِ بصیرت ہے سراپا تیرا
میرا اعزازِ بصیرت ہے سراپا تیرا
حشر تک شوق سے دیکھوں گا میں رستہ تیرا
بیکرانی میں سوا ہے تو سمندر سے بھی
آج تک کس کو نظر آیا کنارا تیرا
اور جتنے بھی سہارے ہیں سبک کرتے ہیں
عزتِ نفس بڑھاتا ہے سہارا تیرا
وقت ہے اپنے ہر اک روپ میں تجھ سے منسوب
دوش و امروز ہیں تجھ سے، تو ہے فردا تیرا
اس کی وسعت میں سما جانے کی حسرت ہے مجھے
ہر چمن زار سے شاداب ہے صحرا تیرا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.