Font by Mehr Nastaliq Web

شام ڈھل کر بھی رہی ہم کو میسر روشنی

عارف معین

شام ڈھل کر بھی رہی ہم کو میسر روشنی

عارف معین

MORE BYعارف معین

    شام ڈھل کر بھی رہی ہم کو میسر روشنی

    آپ کے صدقے میں ہے اپنا مقدر روشنی

    کر دیا ہوگا اشارہ آپ نے کوئی ضرور

    روز آتی ہے مرے گھر آپ چل کر روشنی

    سرورِ کونین سے میں نے کیا ہے اکتساب

    شہر میں ظلمت سہی، ہے میرے اندر روشنی

    محسنِ انسانیت کا یہ بھی ہے فیضانِ خاص

    ظلمتِ شب میں کرم فرما ہے مجھ پر روشنی

    ہر طرف نورِ جمالِ مصطفیٰ کا عکس ہے

    پیڑ، بادل، چاندنی، سورج، سمندر، روشنی

    دن جمالِ مصطفیٰ ہے رات ہے کملی کا نام

    یوں اندھیروں میں چھپی رہتی ہے شب بھر روشنی

    ہے رسالت آپ کی ہر اک زمانے کے لیے

    ہے یقیناً آج بھی دنیا کی رہبر روشنی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے