شام ڈھل کر بھی رہی ہم کو میسر روشنی
شام ڈھل کر بھی رہی ہم کو میسر روشنی
آپ کے صدقے میں ہے اپنا مقدر روشنی
کر دیا ہوگا اشارہ آپ نے کوئی ضرور
روز آتی ہے مرے گھر آپ چل کر روشنی
سرورِ کونین سے میں نے کیا ہے اکتساب
شہر میں ظلمت سہی، ہے میرے اندر روشنی
محسنِ انسانیت کا یہ بھی ہے فیضانِ خاص
ظلمتِ شب میں کرم فرما ہے مجھ پر روشنی
ہر طرف نورِ جمالِ مصطفیٰ کا عکس ہے
پیڑ، بادل، چاندنی، سورج، سمندر، روشنی
دن جمالِ مصطفیٰ ہے رات ہے کملی کا نام
یوں اندھیروں میں چھپی رہتی ہے شب بھر روشنی
ہے رسالت آپ کی ہر اک زمانے کے لیے
ہے یقیناً آج بھی دنیا کی رہبر روشنی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.