Font by Mehr Nastaliq Web

اَب تو میں کچھ بھی نہیں اشکِ ندامت کے سوا

عاصی کرنالی

اَب تو میں کچھ بھی نہیں اشکِ ندامت کے سوا

عاصی کرنالی

MORE BYعاصی کرنالی

    اَب تو میں کچھ بھی نہیں اشکِ ندامت کے سوا

    اَب کہاں جاوں گا میں دامانِ رحمت کے سوا

    ختم جو ہوتا ہے جا کر منزلِ محمود پر

    کون سا ہے راستہ قرآن و سنت کے سوا

    محفلِ دنیا کی جو تزئین فرمائی گئی

    حق کو کیا منظور تھا ان کی صدارت کے سوا

    وہ جو آئے ہیں تو ساتھ آئی ہیں ساری رونقیں

    ورنہ صحرائے عدم میں کیا تھا وحدت کے سوا

    وہ محبت ہی محبت ہیں محبت کی قسم

    اب مجھے کیا چاہیے ان کی محبت کے سوا

    اور ہو سکتا ہے کیا مقصد مری تخلیق کا

    ان کی الفت کے سوا ان کی اطاعت کے سوا

    اس تجلی گاہ سے جس کا مدینہ نام ہے

    اور کیا ملتا مری آنکھوں کو حیرت کے سوا

    تو نے دیکھا میرے دل کو اے نسیمِ گل طراز

    میرے ویرانے میں کیا ہے داغِ حسرت کے سوا

    اے فرشتو کیوں مری فردِ عمل کا احتساب

    اس میں کیا لکھا ہے آنحضرت کی مدحت کے سوا

    پوچھتے ہیں لوگ عاصیؔ کیا تمنا دل میں ہے

    کیا تمنا ہو مدینے کی زیارت کے سوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے