اَب تو میں کچھ بھی نہیں اشکِ ندامت کے سوا
اَب تو میں کچھ بھی نہیں اشکِ ندامت کے سوا
اَب کہاں جاوں گا میں دامانِ رحمت کے سوا
ختم جو ہوتا ہے جا کر منزلِ محمود پر
کون سا ہے راستہ قرآن و سنت کے سوا
محفلِ دنیا کی جو تزئین فرمائی گئی
حق کو کیا منظور تھا ان کی صدارت کے سوا
وہ جو آئے ہیں تو ساتھ آئی ہیں ساری رونقیں
ورنہ صحرائے عدم میں کیا تھا وحدت کے سوا
وہ محبت ہی محبت ہیں محبت کی قسم
اب مجھے کیا چاہیے ان کی محبت کے سوا
اور ہو سکتا ہے کیا مقصد مری تخلیق کا
ان کی الفت کے سوا ان کی اطاعت کے سوا
اس تجلی گاہ سے جس کا مدینہ نام ہے
اور کیا ملتا مری آنکھوں کو حیرت کے سوا
تو نے دیکھا میرے دل کو اے نسیمِ گل طراز
میرے ویرانے میں کیا ہے داغِ حسرت کے سوا
اے فرشتو کیوں مری فردِ عمل کا احتساب
اس میں کیا لکھا ہے آنحضرت کی مدحت کے سوا
پوچھتے ہیں لوگ عاصیؔ کیا تمنا دل میں ہے
کیا تمنا ہو مدینے کی زیارت کے سوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.