Font by Mehr Nastaliq Web

مصائب میں تجھ سے توسل کیا

عاصی کرنالی

مصائب میں تجھ سے توسل کیا

عاصی کرنالی

MORE BYعاصی کرنالی

    مصائب میں تجھ سے توسل کیا

    پھِر اللہ پر بھی توکل کیا

    بہار آفرین و چمن ساز نے

    تجھے گل کیا مجھ کو بلبل کیا

    کہاں تک شبِ ہجر ضبطِ فغاں

    کہ اب تک تو میں نے تحمل کیا

    چلا اذن ملتے ہی بے رخت و زاد

    نہ سوچا نہ میں نے تامل کیا

    کبھی میں نے مانی نہیں نفس کی

    بہت میرے شیطان نے غل کیا

    یہ تو ہے کہ جس نے دیا درسِ شرع

    یہ میں ہوں کہ جس نے تغافل کیا

    بدی ہی کا پلہ جھکا ہائے ہائے

    جو نیکی بدی کا تقابل کیا

    جو آیا نہ طیبہ سے اذنِ طلب

    سفر یہ براہِ تخیل کیا

    کِیا طاعتِ حق کا دریا عبور

    ترے جذبۂ عشق کو پل کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے