ملوں گا خاک خط و خالِ رخ نکھاروں گا
ملوں گا خاک خط و خالِ رخ نکھاروں گا
درِ نبی پہ مقدر کے نقش ابھاروں گا
فضائے گنبدِ خضریٰ کشش کرے گی مجھے
شکستہ پر ہوں مگر حوصلہ نہ ہاروں گا
یہ دشتِ طیبہ ہے اے کارواں خدا حافظ
کہ میں تو اپنا کجاوہ یہیں اتاروں گا
تمام عمر رکھا ہے بچا بچا کے اسے
کہ زندگی کو ترے آستاں پہ واروں گا
تجلیوں کے خزانے نبی کے شہر میں ہیں
نگاہِ شوق ترے سارے قرض اتاروں گا
میں حرف حرف ترا موجِ روشنی کی طرح
نظر میں دل میں خیالات میں اتاروں گا
کچھ ایسا تجھ پہ بھروسہ ہے میں سرِ محشر
خدا سے کچھ نہ کہوں گا تجھے پکاروں گا
میں زندگی تو گزاروں گا آ کے طیبہ سے
مگر سوال یہ ہے کس طرح گزاروں گا
جمالِ سیرتِ اقدس سے ربط ہے عاصیؔ
زمیں کو صورتِ خلدِ بریں سنواروں گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.