کرتے ہیں سرکار خود دل داریاں
کرتے ہیں سرکار خود دل داریاں
رنگ لائیں میری آہ و زاریاں
دوستو پڑھتے رہو پیہم درود
رات دن ہوتی رہیں گل باریاں
سوئے طیبہ چل دیے میرے بغیر
خوب یاروں نے نبھائیں یاریاں
صبحِ یثرب مجھ پہ کب ہوگی طلوع
کس طرح کاٹوں گا راتیں بھاریاں
لو مدینے سے بلاوا آگیا
کر رہا ہوں خیر سے تیاریاں
ان کی بستی آسمانِ نور ہے
ہر طرف ضوباریاں ضوباریاں
چاند تارے اس مجسم حسن کی
کر رہے ہیں آئینہ برداریاں
ان کا صدقہ صبحِ علم و آگہی
ان کی برکتِ ذہن کی بیداریاں
یا نبی خیرالامم کو پیش ہیں
عصرِ نو میں کیسی کیسی خواریاں
ذلتیں محرومیاں ناکامیاں
پستیاں رسوائیاں ناچاریاں
رحمتِ کل آپ سے شرمندہ ہیں
ہم برے لوگوں کی عصیاں کاریاں
آپ کو شانِ کرم کا واسطہ
آپ سے بنتی ہیں باتیں ساریاں
جن سے ذلت کی تلافی ہوسکے
مرحمت کیجے وہ عزت داریاں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.