Font by Mehr Nastaliq Web

طیبہ میں سدا صبحِ مسلسل کا سماں ہے

عاصی کرنالی

طیبہ میں سدا صبحِ مسلسل کا سماں ہے

عاصی کرنالی

MORE BYعاصی کرنالی

    طیبہ میں سدا صبحِ مسلسل کا سماں ہے

    جس شہر میں سورج ہے وہاں رات کہاں ہے

    آدم سے چلے ذکر اگر تا بہ مسیحا

    سب تیری ہی مدحت بہ حدیثِ دگراں ہے

    اے کعبۂ دل قبلۂ جاں منزلِ مقصود

    ہر قافلۂ زیست تری سمت رواں ہے

    کتنے ہی ابد تیری نبوت کے ہیں جن میں

    اک ذرے سے کم سلطنتِ کون و مکاں ہے

    چیونٹی بھی ترے فضل سے ہم شانِ سلیماں

    تنکا بھی ترے عدل سے اک کوہِ گراں ہے

    بن تیری توجہ کے ہیولیٰ ہے مری ذات

    پتھر ہے نہ گوہر ہے نہ ارزاں نہ گراں ہے

    ہم رہتے ہیں طیبہ میں کہیں بھی ہو سکونت

    سورج کے علاقے میں ہے جو ذرہ جہاں ہے

    مقصورۂ اقدس میں حضوری کے یہ لمحات

    کونین میں یہ لذتِ نایاب کہاں ہے

    تجھ سے بھی مرا ربط خدا سے بھی مرا ربط

    تو دل میں مکیں ہے وہ قریبِ رگِ جاں ہے

    اب دل میں بھی آتا نہیں احساس بدی کا

    وہ چشمِ کرم یوں مِری جانب نگراں ہے

    اے عشقِ نبی زندہ و پائندہ رہے تو

    تو ہی تو مرا حاصلِ عمرِ گزراں ہے

    اب مجھ کو درودوں کے تسلسل سے نہ روکو

    اک لمحہ جو رک جاؤں تو صدیوں کا زیاں ہے

    غالب کے بقول اس شہِ کونین کو توصیف

    اللہ کو زیبا ہے کہ وہ مرتبہ داں ہے

    سرکار میں حسرت کدۂ حرف و بیاں ہوں

    سامانِ ندامت ہے قلم ہے زباں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے