Font by Mehr Nastaliq Web

وہ مہرِ مبیں جب سے ہے جلوہ گر

عاصی کرنالی

وہ مہرِ مبیں جب سے ہے جلوہ گر

عاصی کرنالی

MORE BYعاصی کرنالی

    وہ مہرِ مبیں جب سے ہے جلوہ گر

    سحر ہی سحر ہے سحر ہی سحر

    ترا مرتبہ یہ ہے المختصر

    تری خاکِ پا سے طلوعِ بشر

    نہ ہوتی تری ذات منزل اگر

    کہیں ختم ہوتا نہ دشتِ سفر

    مدینہ مدینے کے دیوار و در

    وجودِ محبت نظر ہی نظر

    یہاں جب سے موجود ہے القمر

    زمیں پر جھکے ہیں ستاروں کے سَر

    مدینے سے جانا ہے شرطِ سفر

    مدینے سے میں جا رہا ہوں مگر

    تصور میں مانع ہے حدِ ادب

    تجلی میں حائل ہے حدِ نظر

    دعا کا توسل محمد سے ہے

    دعا کے قدم چومتا ہے اثر

    درِ فیض سے جب تعلق ہوا

    ملا کس قدر کس قدر کس قدر

    ترا ہی تصور تجھی پر درود

    نہ فکر دگر ہے نہ کارِ دگر

    ترا سایہ ہم کو میسر ہوا

    یہ سایہ میسر نہ ہوتا اگر

    یہ مدحت نگاری کا انعام ہے

    بہت محترم ہوں بہت مقتدر

    مرے لفظ ہیں نا دمیدہ ہنوز

    کلی کو بنا دے گلابِ ہنر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے