Font by Mehr Nastaliq Web

سرکار میں کیا عرض کروں ہاتھ اٹھا کے

عاصی کرنالی

سرکار میں کیا عرض کروں ہاتھ اٹھا کے

عاصی کرنالی

MORE BYعاصی کرنالی

    سرکار میں کیا عرض کروں ہاتھ اٹھا کے

    مولیٰ مجھے آتے نہیں آداب دعا کے

    آخر درِ اقدس پہ پڑھوں شعر ثنا کے

    کب تک میں اٹھاتا رہوں احسان صبا کے

    لکھی ہے دل و جاں کے صحیفوں پہ تری نعت

    رکھا ورقِ لب پہ ترا نام سجا کے

    ہر سمت نظر آئے محمد کی تجلی

    دیکھے تو کوئی آنکھ کو آئینہ بنا کے

    در رحمتِ کونین کا ہے برجِ سعادت

    ملتے ہیں ستارے جہاں سلطان و گدا کے

    ہے اپنی بقا صلِ علیٰ صلِ علیٰ میں

    طالب نہیں ہم خضر کے اور آبِ بقا کے

    تو ہم سے ہے راضی تو خدا ہم سے ہے راضی

    ہم تو ہیں طلب گار فقط تیری رضا کے

    رفعت وہ عطا کی ہمیں طیبہ کی زمیں نے

    چھو لیتے ہیں افلاک کو ہم ہاتھ بڑھا کے

    لوٹے جو ترے شہر سے ہم اہلِ حضوری

    لے آئے ترے شہر کو آنکھوں میں چھپا کے

    بالفرض ہُما آ کے ٹھہر جائے سرِ بام

    ٹھہرے نہ غلام آپ کا سایے میں ہما کے

    یہ نعت ہے سرکار کے شایاں کہ نہیں ہے

    میں دیکھ لوں حسان و بوصیری کو سنا کے

    امشب کسی امیدِ عنایات پہ عاصیؔ

    بیٹھا ہوں سرِ جادۂ دل شمع جلا کے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے