سرکار میں کیا عرض کروں ہاتھ اٹھا کے
سرکار میں کیا عرض کروں ہاتھ اٹھا کے
مولیٰ مجھے آتے نہیں آداب دعا کے
آخر درِ اقدس پہ پڑھوں شعر ثنا کے
کب تک میں اٹھاتا رہوں احسان صبا کے
لکھی ہے دل و جاں کے صحیفوں پہ تری نعت
رکھا ورقِ لب پہ ترا نام سجا کے
ہر سمت نظر آئے محمد کی تجلی
دیکھے تو کوئی آنکھ کو آئینہ بنا کے
در رحمتِ کونین کا ہے برجِ سعادت
ملتے ہیں ستارے جہاں سلطان و گدا کے
ہے اپنی بقا صلِ علیٰ صلِ علیٰ میں
طالب نہیں ہم خضر کے اور آبِ بقا کے
تو ہم سے ہے راضی تو خدا ہم سے ہے راضی
ہم تو ہیں طلب گار فقط تیری رضا کے
رفعت وہ عطا کی ہمیں طیبہ کی زمیں نے
چھو لیتے ہیں افلاک کو ہم ہاتھ بڑھا کے
لوٹے جو ترے شہر سے ہم اہلِ حضوری
لے آئے ترے شہر کو آنکھوں میں چھپا کے
بالفرض ہُما آ کے ٹھہر جائے سرِ بام
ٹھہرے نہ غلام آپ کا سایے میں ہما کے
یہ نعت ہے سرکار کے شایاں کہ نہیں ہے
میں دیکھ لوں حسان و بوصیری کو سنا کے
امشب کسی امیدِ عنایات پہ عاصیؔ
بیٹھا ہوں سرِ جادۂ دل شمع جلا کے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.