فصیلِ زیست پر بجھتا ہوا دیا ہوں میں
فصیلِ زیست پر بجھتا ہوا دیا ہوں میں
منارِ نور ترا عکس چاہتا ہوں میں
میں خاکِ محض میں انبارِ گل میں مشتِ غبار
تیری نگاہ جو پڑ جائے کیمیا ہوں میں
میرے حبیب مری حسرتِ نگاه تو دیکھ
مدینہ دیکھنے والوں کو دیکھتا ہوں میں
میرے کریم تری بارشِ کرم کو سلام
کہ نارسائی کے شعلوں میں جل رہا ہوں میں
درود ہو تیری رحمتِ مآب کملی پر
ردائے یاس میں لپٹی ہوئی خطا ہوں میں
میں کون ذرۂ خاکِ درِ بنی عاصیؔ
ستارے عرشِ معلیٰ سے توڑتا ہوں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.