آستانِ شہ سے فرمانِ طلب آنے تو دو
آستانِ شہ سے فرمانِ طلب آنے تو دو
میں بصد ذوقِ حضوری سر جھکاتا جاؤں گا
نالہ ہائے درد کے لشکر چلیں گے میرے ساتھ
نعرہ ہائے شوق کے پرچم اڑاتا جاؤں گا
دیدنی ہو گا سفر میں اضطراب و اشتیاق
راستوں کو شاہد عینی بناتا جاؤں گا
میری پلکوں پر چمک اٹھے گا اشکوں کا جمال
رات آئے گی تو یہ شمعیں جلاتا جاؤں گا
میرے لب پر جگمگا اٹھے گا آہوں کا طلوع
صبح کے چہرے پہ یہ کرنیں سجاتا جاؤں گا
ہر نفس صلِ علیٰ صلِ علیٰ صلِ علیٰ
دم بہ دم یہ زمزمے ہونٹوں یہ لاتا جاؤں گا
گاه از شوقِ زیارت گاه از کربِ فراق
مسکراتا جاؤں گا آنسو بہاتا جاؤں گا
جن گزر گاہوں نے چومے تھے محمد کے قدم
خاک ان کی تاجِ پیشانی بناتا جاؤں گا
اس دیارِ قدس کی گلیوں میں جب پہنچوں گا میں
دل بچھاتا جاؤں گا آنکھیں بچھاتا جاؤں گا
منزلِ جاناں پہ جا کر واپسی کا کیا سوال
سب نقوش ما سوا دل سے مٹاتا جاؤں گا
بس اسی ماحول میں تحلیل ہونا ہے مجھے
بس اسی خاکِ منور میں سماتا جاؤں گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.