ترے در پر جو کیف آیا کہیں جا کر نہیں آیا
ترے در پر جو کیف آیا کہیں جا کر نہیں آیا
اسے اللہ لائے جو ترے در پر نہیں آیا
بدل ڈالی نگاہِ حسن نے تقدیرِ آئینہ
میں بے جوہر گیا لیکن میں بے جوہر نہیں آیا
وہاں میں نعت کیا پڑھتا کہ اتنا تھا جلال ان کا
کہ مصرع تک حدودِ ذہن کے اندر نہیں آیا
نبی کے شہر میں نو دن سرور آیا مجھے جتنا
سرور اتنا مجھے باسٹھ برس جی کر نہیں آیا
مدینے نے مجھے اب تک کچھ ایسا گھیر رکھا ہے
نظر کے دائرے میں دوسرا منظر نہیں آیا
میں اس بستی میں اپنے جان و دل لے کر گیا لیکن
میں اس بستی سے اپنے جان و دل لے کر نہیں آیا
میں باہر آ گیا ہوں اس فضائے خلد سے لیکن
میں اب تک اس فضائے خلد سے باہر نہیں آیا
میں جس عالم میں تھا شاید اسی عالم میں ہوں اب بھی
میں ان کے شہر سے لوٹا اور اپنے گھر نہیں آیا
بہت دل نے کہا کہہ دے کہ پھر بلوائیے آقا
تقاضائے ادب تھا چپ رہا کہہ کر نہیں آیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.