Font by Mehr Nastaliq Web

خورشید جِس کے نور کا ایک اقتباس ہے

عاصی کرنالی

خورشید جِس کے نور کا ایک اقتباس ہے

عاصی کرنالی

MORE BYعاصی کرنالی

    خورشید جس کے نور کا ایک اقتباس ہے

    اس کا جمال میری نظر کا لباس ہے

    دستِ کرم کسی نے مرے منہ پہ رکھ دیا

    میں کہنا چاہتا تھا مرا دل اداس ہے

    ملتا ہے روز تیرے وسیلے سے ہم کو رزق

    جو معترف نہیں ہے نمک ناشناس ہے

    دنیا نہ دے مجھے مرے حصے کی نعمتیں

    جس میں تری تڑپ ہے وہ دل میرے پاس ہے

    میں قرب چاہتا ہوں مرا پوچھنا ہی کیا

    لیکن تری رضا ہے تو فرقت بھی راس ہے

    مہکی ہوئی ہے کوچہ و بازار کی ہوا

    محسوس ہو رہا ہے کوئی آس پاس ہے

    حضرت میں التماس کروں بھی تو کیا کروں

    حضرت مرا تمام وجود التماس ہے

    کیسے بجھے گی جرعۂ دیدار کے سوا

    یہ دل کی تشنگی ہے یہ آنکھوں کی پیاس ہے

    عاصیؔ کو چشمِ لطف سے آسی بنا دیا

    اس ذات پاک نے جو غریبوں کی آس ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے